Taqribat

جے کے بی نیوز (“جنتا کی بات” نیوز – کلکتہ) کے روح رواں جرنلسٹ جاوید حسین اور ان کی ٹیم کے زیر اہتمام مورخہ 20/ دسمبر 2024 بروز جمعہ بعد نماز مغرب ایک شاندار “شام محبانِ اردو کے نام” بمقام پارک سرکس نزد کویسٹ مال انعقاد پذیر ہوا۔ پروگرام پانچویں منزل کی چھت پہ کھلے آسمان کے نیچے سردی اور ہلکی بارش کے دوران ہوا۔ بشمول مشاعرہ مکمل تقریب کی نظامت خواجہ احمد حسین نے کی جب کہ صدارت معتبر سینئر شاعر انور حسین انجم نے کی۔ تقریب کا آغاز مولانا ابو طلحہ جمال قاسمی کی تلاوت کلام سے ہوا۔ معظم جاوید نے نعت خوانی کی۔ “محبان اردو کے نام” شام کے پہلے مرحلے میں “مغربی بنگال میں عصر حاضر میں اردو کی اہمیت” پر باتیں کی گئیں۔ جاوید حسین نے پروگرام کے انعقاد کا مقصد صرف اور صرف اردو سے محبت، اس کے موجود مسائل کے تئیں بیداری اور اس کے سدباب کے لیے ایک پہل بتایا۔ ہر فن مولا بیدار مغز‌ جناب مبارک علی مبارکی صاحب نے جم کر ریاستی سرکاری ملازمت میں در پیش اردو زبان کے مسائل پر روشنی ڈالی اور اردو میڈیم کے ذریعہ تعلیم پر منڈلاتے آئندہ کے خطرات کو خوب قاعدے سے اجاگر کیا۔ انھوں نے بتایا کہ اس کے حل کے لئے اختیار کردہ اقدامات‌ میں ملی ہلکی پھلکی کامیابی پر خوش نہ ہو کر اس میں ملی بڑی نا کامی سے نمٹنے کے لیے متحد ہو کر اجتماعی کوشش کرنے کی باتیں کیں۔ دوسرے مرحلے میں شاندار منی مشاعرے کا اہتمام بھی رہا۔ جہاں جواں سال شاعر شاہنواز عالم عادل ، علی شاہد دلکش اور شاعرہ فوزیہ اختر نے اپنی تخلیقات سے حاضرین کو خوب متاثر کیا۔ وہیں گرتے شبنم کی بوندوں کے دوران ڈاکٹر احمد معراج ، جناب ایاز خان، محترمہ رونق افروز، خواجہ احمد حسین ، شفیق الدین شایان ، مبارک علی مبارکی ، پرویز اختر ، بلند اقبال، آتش رضا صاحبان اپنی غزلوں سے مشاعرے میں رونق بڑھانے کے اسباب بنے۔ وہیں رواں بارش کے قطروں تلے بے حد معتبر و مقبول شاعر ارشاد آرزو اور استاد شاعر انور حسین انجم نے اپنی معیاری غزلوں سے مشاعرے کے حسن کو دو بالا کر دیا۔ مہمانان میں صحافی خورشید اختر فرازی اور مختار علی (ممبر مغربی بنگال اردو اکاڈمی) اور گڈو بھائی نے بھی گفتگو کیں‌۔ جاوید حسین کی پوری ٹیم خاص کر محترمہ مہوش خان ، معظم جاوید و دیگر نے پروگرام کو کامیاب بنانے میں خوب تعاون کیا۔ صحافی جاوید حسین کی میزبانی بھی خوب رہی۔

بزم گلستان سخن کا 52 واں ماہانہ آن لائن طرحی مشاعرہ جیو میٹ پر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے مورخہ 27 اکتوبر بروز اتوار شب 8 بجے سے منعقد ہوا۔ اس مشاعرے کی صدارت مغربی بنگال کے معروف شاعر محترم جناب اشرف یعقوبی صاحب نے فرمائی اور جبکہ نظامت کے فرائض جھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والے نئی نسل کے نوجوان شاعر جناب کلیم شاہدؔ دھنبادی نے انجام دیا۔ اس ماہ کے مشاعرے میں بطور مصرع طرح پاکستان کے معروف شاعر جناب سراج اجملی صاحب کے تین مصرعے طرح دئیے گئے تھے۔ جو درج ذیل ہے
۱- بجھ گیا رات وہ ستارہ بھی ۲- وہ کہانی بھی کہانی تو نہیں ہوتی ہے ٣- درد بے انتہا رہ گیا
اور اس مشاعرے کا آغاز کلیم شاہد دھنبادی نے قرآن پاک کی آیت اور نعتیہ کلام پڑھ کر مشاعرہ کا آغاز کیا۔ اس کے بعد غزلیہ دور کا آغاز ہوا۔ اور اس طرحی مشاعرے میں ملک کے مختلف حصے اور ممالک سے کل 13 شعرا نے شرکت کی اور اپنا کلام پیش کیا۔
تمام شعرا کے کلام سے منتخب اشعار حسب ذیل ہیں۔
وہ کہانی جو سناتی تھی مری ماں مجھ کو وہ کسی ‌ طور پرانی تو نہیں ہوتی پے
اشرف یعقوبی کولکتہ ، مغربی بنگال
تیز ہے اب ندی کی دھارا بھی ہم کو ملتا نہیں کنارا بھی
سعید رحمانی ، اڑیسہ کٹک
کیسے تصدیق بھول جاؤں اسے وہ جہاں میں ہے سب سے پیارا بھی
تصدیق احمد خاں ، اجمیر راجستھان
اور کہنے کو کیا رہ گیا یاد کا سلسلہ رہ گیا
تحسین روزی ، پٹنہ
چوٹ گہری تھی اتنی صنم رات دن جاگتا رہ گیا
مصباحؔ انصاری، گورکھپور، یو۔ پی۔
ہم سفر بن کے چل رہا تھا مگر تھام کر ہاتھ اُس نے چھوڑا بھی
مہتاب ناروی ، کوشامبی ، یوپی
آج سمجھا ہوں شاعری کیا ہے جب سے مشکل ہوا گزارا بھی
قمرؔ شاہدی سنگھاڑوی،نظام آباد (تلنگانہ)
وقت آیا برا تو یاد آیا یار ہوتا کوئی ہمارا بھی
سمیع احمد ثمرؔ ، سارن بہار
اس قیامت نما زمانے میں کوئی کیسے کرے گزارا بھی
ڈاکٹر اظہار الحق اظہرؔ ، پٹنہ ہائی کورٹ
دل کے آنگن میں کیا رہ گیا نام اس کا لکھا رہ گیا
کلیم شاہد دھنبادی، دھنباد جھاڑکھنڈ
جس سے روشن تھی کائناتِ ادب “بجھ گیا رات وہ ستارا بھی”
عمران رضا قادری ، کولکتہ
رب تمہارا بھی اک ہمارا بھی اور اسی کا ہے بس سہارا بھی
سیف دیوگھری، جھارکھنڈ
اور آخر میں صدرِ مشاعرہ محترم جناب اشرفؔ یعقوبی صاحب اور چیف ایڈمن جناب سمیع احمد ثمرؔ صاحب کے صدارتی کلمات سے مشاعرہ اختتام پذیر ہوا ۔۔۔ اور سامعین بھی خوب لطف اندوز ہوئے۔۔۔

معتبر ادیب و معلم ڈاکٹر محمد شاہد اختر صاحب ( سابق صدر شعبہ ہگلی محسن کالج) کی خدمات آفتاب کی روشنی کی طرح روشن ہے۔ انہوں نے اردو اور ملت کی خدمت محض پیشہ وارانہ انداز میں نہیں کی بلکہ ہمہ تن اور ہمہ گوش اس کی بہتری میں لگے رہے۔ نتیجے کے طور پر ہگلی محسن کالج کے شعبۂ اردو میں پوسٹ گریجویشن اور پی ایچ ڈی (ڈاکٹریٹ) کی بنیادیں پڑیں۔ انھوں نے سماج ، قوم اور ملت کے نو نہالوں کی علمی و ادبی دونوں خدمات میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی مناسبت سے ان کی خدمات کے اعتراف میں سینئیر صحافی اور ادب نواز ڈاکٹر مختار احمد فردین اپنی سوسائٹی “آل انڈیا اردو ماس کمیونیکیشنل سوسائٹی فار پیس” کی طرف ڈاکٹر شاہد صاحب کو تہنیت دینے ان کے دولت کدے پر پہنچے۔ اس سلسلے میں ۔
ڈاکٹر مختار احمد فردین نے ڈاکٹر اختر کے دیرینہ دوست معروف شاعر و ادیب عظیم انصاری (سابق آفیسر، وزارت دفاع، حکومت ہند) ، خاکسار محمد شہاب الدین(لوکل جرنلسٹ) اور جواں سال شاعر و ادیب علی شاہد دلکش(معلم ، کوچ بہار گورنمنٹ انجینئرنگ کالج) کو اپنی محبتوں کے توسط اپنے ڈیلیگیٹس میں شامل ہونے پر راضی کر لیا۔ رانی گنج ٹی ڈی بی کالج سے قدآور علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر صابرہ خاتون حنا کو بھی ان کے معتمد و معتقد شاگردِ عزیز وقار احمد کے ساتھ آنے کی رضامندی حاصل کر لی۔
27/ اکتوبر 2024 بروز اتوار ظہرانہ تا عشائیہ تیلنی پاڑہ کی سر زمین پر ڈاکٹر شاہد صاحب کے دولت کدے پر مخصوص ادبی نشست منعقد ہوئی۔ صدرات کی ذمہ داری حاضرین کے اتفاق سے میزبان ڈاکٹر شاہد اختر صاحب کے حصے میں رہی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر صابرہ خاتون حنا کے شانے پر۔
‌ ڈاکٹر صابرہ نے آغازِ مجلس میں ہی اپنے استادِ محترم سے متعلق ، محفل کی نوعیت اور صدرِ محفل کے حوالے سے سیر حاصل تمہیدی گفتگو کی۔ پھر علی شاہد دلکش کو خوب دلکش انداز میں دعوتِ سخن دی۔ دلکش نے بھی محفل کی دلکشی میں برکت کے لیے ترنم کے ساتھ ایک حمدیہ قطعہ اور نعت پاک پڑھ کر سماں باندھ دیا۔ اس کے بعد غزل سرائی کے دور میں خوش فکر نوجوان وقار احمد نے ایک نظم اور ایک غزل سنا کر خوب داد و تحسین حاصل کی۔ ناظمِ نشست ڈاکٹر صاحبہ کو علی شاہد دلکش نے پرتپاک انداز میں دعوتِ کلام دیا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے بھی اپنی ایک مرصع غزل اور اچھی نظم سے محفل کے وقار کو بلند کیا۔ علی شاہد دلکش کو پھر غزل کے لیے پکارا گیا۔ مہمان ذیشان ڈاکٹر فردین نے بھی جم کر ادبی گفتگو شاعرانہ انداز میں کی۔ انھوں نے ڈاکٹر شاہد اختر سے اپنی انتہائی محبت و عقیدت کو بھی والہانہ انداز میں پیش کیا اور لگے ہاتھوں ایک تہنیت نامہ کے ساتھ شال پوشی کی۔ اردو انمول رتن ایوارڈ بھی ڈاکٹر شاہد صاحب کو قبول کرنے کے لیے ملتمس ہوئے۔ اس کے بعد سینئر شاعر مہمانان و میزبان کی فرمائش پر عظیم انصاری نے اپنی دو غزلیں ترنم میں نذرِحاضرین کیا۔ اخیر میں ڈاکٹر شاہد اختر نے صدارتی خطبہ اور یاد رفتگاں تا حال اپنے تاثرات کو مدبرانہ انداز میں رکھا۔ مزید اصرار پر اپنی دو غزلوں کے منتخب اشعار بھی سنائے۔ چائے کے وقفے اور مغرب کے بعد ایک مذاکرات برننگ ٹاپک (موجودہ طالب علموں میں خودکشی کا رجحان) لوکل نیوز چینلز “دی اسٹنگ نیوز” کے زیرِ اہتمام لائیو ٹیلی کاسٹ ہوا۔ یکے بعد دیگرے ڈاکٹر حنا، ڈاکٹر شاہد اختر اور عظیم انصاری نے اپنے تاثرات مع مشورے کی شکل میں بائیٹز دیئے۔ عشاء کی آذان ہوتے ہی کامیاب اور یادگار محفل اپنے انجام کو پہنچی۔‌

13/اکتوبر 2024ء بروز اتوار صبح نو بجے بمقام علی عبد اللہ اینکلیو عقب رینوا بی بی کینسر ہاسپیٹل ملک پیٹ حیدرآباد میں ایک ادبی نشست بہ اعزاز محمد ثناء اللہ انصاری وصفی منعقد کی گئی۔ ساتھ ہی ساتھ ایوانِ احمد کے زیر ِ اہتمام محفل ِ شعر و تہنیت میں مہمان شاعر و ادیب علی شاہد ؔ دلکش (کلکتہ، بنگال) کو بھی شال اور گلدستے سے استقبالیہ دیا گیا۔ تقریب کی صدارت ابن عدیل کے فائق فرزند ارجمند ڈاکٹر فاروق شکیل نے فرمائی۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے علی شاہد ؔ دلکش(کلکتہ)، سردار سلیم، سمیع اللہ حسینی سمیع، فرید سحر، مظفر احمد نے شرکت کی۔ معتبر شعراء کرام میں اکبر خان اکبر، نوید جعفری، لطیف الدین لطیف، ثناء اللہ وصفی، شکیل حیدر، سعد اللہ خان سبیل، جہانگیر قیاس، تشکیل انور رزاقی، ارشد شرفی، سراج یعقوبی، باسط علی رئیس، افتخار عابد اور سہیل عظیم میں موجودگی رہی۔ جبکہ یادگار نظامت کے فرائض لطیف الدین لطیف نے ادا کیے۔ داعی محفل پروفیسر مسعود احمد (ہاسپیٹل چیف آپریٹنگ آفیسر رینوابی بی کینسر ہاسپٹل حیدرآباد) جو ماہر تعلیم بھی ہیں اور نظم و نسق مزید بلند فکر وسخن کے حامل بھی۔ انہوں نے اس تقریب کا آغاز پرتکلف ناشتہ کے بعد کیا اور تاثرات ِ میزبانی کا اظہار کیا ۔ جب کہ راقم الحروف کا اب تک کا تجربہ رہا ہے کہ پروگرام کے بعد یا بیچ میں بھی عام وخاص کی ضیافت ہوتی ہے۔ پروفیسر صاحب جہاں دیدہ اور عالمی شخصیت ہیں، انہوں نے بڑے ہی نظافت و لطافت سے شعراء کرام اور حاضرین محفل کا استقبال کیا۔ حمد ونعت سے بزمِ شعر کا آغاز ہوا۔ سبھی مذکورہ بالا شعراء کرام نے اپنے کلام میں فکر و فن کی خوب جولانیاں پیش کیں۔ طنز ومزاج کی شاعری نے بھی محفل ِ شعر میں چار چاند لگا دیا۔ راقم الحروف کا یہ خیال ہے کہ مخصوص او ر خالص ادبی نشست بے ڈھنگ بڑے مشاعروں سے بھی زیادہ بہتر و کامیاب رہی۔ موجود شعراء کرام نے فکر و فن کی بلندیوں کو چھُو لیا۔ اور ان کا ہر شعر صنف ِ شاعری کی فکر و فن پر کھرا اترتا ہوا محسوس ہوا۔ کاش کہ ناچیز کے وہ اشعار محفوظ کر لیتا تو اسے ضبط ِ تحریر کرنے میں آسانی ہوتی۔ واضح کر دوں کہ حال ہی میں آپ ہائی کورٹ سے پیش کار کے عہدے سے وظیفہ حسن پر سبک دوش محمد ثناء اللہ انصاری وصفی کی تہنیت کی گئی جن کی تازہ کتاب جذبات وصفی منظر عام پر آئی ہے۔ وصفی صاحب اپنے برادران کے ساتھ محفل میں شریک ہوئے۔ اللہ ان کی خدمات کو قبول کرتے ہوئے اپنے حفظ و امان میں خوش و خرم رکھے،آمین۔ پرگرام کے وسط میں بڑی گرم جوشی سے صدرِ محفل، مہمان خصوصی اور ثناء اللہ انصاری وصفی صاحب کی شال پوشی اور گل پیشی کی گئی۔ حاضرین ِ محفل میں کئی سرکردہ شخصیات موجود رہیں۔ ڈاکٹر محمد آصف علی (الیکٹرونک میڈیا،روبی چینل)، مولانا ڈاکٹر محمد محامد ہلال اعظمی(ایڈیٹر ماہنامہ صدائے شبلی حیدرآباد)، عالی جناب مظفر احمد دمام سعودیہ عربیہ اور دیگر احباب ِ علم و دانش بھی موجود تھے۔ داعی محفل پروفیسر مسعود احمد صاحب نے حاضرین شعراء کرام اور اپنے اسٹاف کا بعد از تکمیل ِ محفل ِ شعر ایک بار اور چائے کے ساتھ تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ پروفیسر مسعود احمد صاحب کے ایوان احمد میں ان کے منتخب کلام کے چار طُغرے آویزاں ہیں۔انھوں نے ان ہی میں سے چند منتخب اشعار محفل شعر میں سامعین و حاضرین کی نذر کیے۔ موصوف کہتے ؎
میں آج کو سنوار کے کل چھوڑ جاوں گا
اپنے عمل کا تاج محل چھوڑ جاوں گا
جن کو پڑھا رہا ہوں اخوت کا میں سبق
ان لوگوں میں ہی اپنا بدل چھوڑ جاوں گا
رپورٹ: ڈاکٹر محمد آصف علی(صحافی، روبی چینل)

.نسل نوکی ذہنی و فکری تربیت کے بغیر سماجی اقدار کی ترقی و ترویج ممکن نہیں ، معاشرتی اصلاح کا سب سے بڑا ادبِ معلیٰ کا وہ قلمی کنویس ہے جس پر سلجھاؤ کے رنگوں سے ایک مثبت ، مثالی اور قابلِ رشک تصویر پینٹ کی جا سکتی ہے ۔ وہ تہذیب و تمدن جہاں ادب کا چلن ہو ، ادبی رجحانات کی نمو ہو اور ادبی نشو نما کیلیے ماحول خوشگوار ہو وہاں سماجی و ثقافتی حسن کی تابانی و رخشندگی کے امکانات زیادہ روشن ہوتے ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ مہذب معاشروں میں ادبی ابلاغ کی اہمیت کو نہ صرف تسلیم کیا جاتا ہے بلکہ ادب کے فروغ اور ادیبوں کی بہبود کیلیے ہمہ وقت سرگرمی کا عمل جاری رہتا ہے ۔ بلوچستان رائٹرز گلڈ (برگ) کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اِس تنظیم نے ہمیشہ موزوں ، مناسب اور معقول ادبی پیش رفت کو آگے بڑھایا ہے ۔ جس کیلیے برگ مبارک باد کا مستحق ہے اِن خیالات کا اظہار برگ کی ادبی کہکشاں میں سابقہ ایڈووکیٹ جنرل ، ممتاز ادیب اور براہوئی اکیڈمی کے چیئرمین ڈاکٹر ایم ، صلاح الدین مینگل نے اپنے صدارتی خطبے میں کیا ۔
بلوچستان رائٹرز گلڈ (برگ) کی ادبی تقریب میں جو ’’ ادبی کہکشاں ‘‘ کے نام سے اسلامیہ گرلز کالج کے آڈیٹوریم میں سجی تھی ، بلوچستان کے معروف شعراء کرام و ادباء حضرات نے بھر پور شرکت کی ۔
تقریب کی صدارت ڈاکٹر ایم صلاح الدین مینگل نےکی جبکہ ڈاکٹر عصمت درانی اور پروفیسر فیصل ریحان مہمانِ خصوصی کی حیثت سے شریک ہوئے . مذکورہ ادبی کہکشاں کے جو ستارے بنے اْن میں کالج کی اسی سے زائد طالبات کے علاوہ فیصل ندیم ، سلیم شہزاد ، محمد وسیم شاہد ، پروفیسر ڈاکٹر صابربولانوی ، ڈاکٹر راحت جبیں رودینی ، پرنسپل اسلامیہ گرلز کالج فرید ستار قابلِ ذکر ہیں ۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا قرآت کی سعادت آنسہ عتیقہ نےحاصل کی جبکہ بارگاہِ رسالت میں ہدیہ نعت کا .نذرانہ آنسہ اقراء ستار نے پیش کیا ، آنسہ اسماء طیب نے ادب کی اہمیت پر اپنا مضمون پڑھا اور دیگر طالبات نے علامہ اقبال کا کلام ترنم سے سنا کر حاضرین سے دادِ تحسین حاصل کی ۔
ادبی کہکشاں کے تین سیشن ہوئے پہلے سیشن میں طالبات نے اپنی ادبی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا ، دوسرے سیشن میں ادبی کہکشاں سجائی گئی اِس کہکشاں کے ستاروں میں فیصل ندیم ، سلیم شہزاد ، وسیم شاہد ، فیصل ریحان صابر بولانوی اور ڈاکٹر عصمت درانی شامل تھے ۔
تیسرے سیشن میں پرنسپل اسلامیہ کالج محترمہ فریدہ صاحبہ ، ڈاکٹر راحت جبیں رودینی صاحبہ ، پروفیسر فیصل ریحان ، ڈاکٹر عصمت درانی ، راقم احروف شیخ فرید اور وسیم شاہد نے خطاب کیا جبکہ فیصل ندیم نےاپنی غزل سے سامعین کو محضوظ کیا اور سلیم شہزاد نےاپنی نظم “دور دیس جانا ہے” پیش کی ۔
تقریب میں طالبات کو ادبی سرگرمی می شامل کرنے کیلیے سوال و جواب کی دلچسپ “لٹریری ایکٹویٹی” ہوئی جس میں راقم شیخ
فرید اور ڈاکٹر راحت جبیں نے طالبات کےساتھ حصہ لیا ۔
تقریب کے اختتام پر مہمانان میں برگ کی خوبصورت اعزازی شیلڈز تعریفی اسناد اور کتب پیش کی گئیں ، ادبی کہکشاں میں شامل طالبات کو برگ کی جانب سے ادبی رابطے ، اور فیصل ریحان کی کتب کےعلاوہ اسناد۔سے نوازا گیا ۔
کالج کی پرنسپل فریدہ صاحبہ ممتاز شاعرہ اور برگ کی کوارینٹر صدف غوری اور ڈاکٹر راحت جبیں کی کتب تحفتہً پیش کی گئیں ۔
بعد ازاں اسلامیہ گرلز کالج کی جانب سے شرکاء کیلیے پْر لطف ضیافت کا اہتمام کیا گیا تھا جس کیلیے بلوچستان رائٹرز گلڈ (برگ) نے پرنسپل فریدہ صاحبہ کا شکریہ اداکیا اور اِس طرح ایک خوبصورت ادبی تقریب اپنےاختتام کو پہنچی ۔

شہر نشاط کلکتہ کے “اردو گھر” (صوبائی صدر دفتر انجمن ترقی اردو ہند، مغربی بنگال)، توپسیا میں منعقد ایک شاندار عید ملن تقریب میں صوبہ مغربی بنگال کے وزیر جاوید احمد خان کو شاخ کانکی نارہ و جگتدل انجمن ترقی اردو ھند کے صدر معروف شاعر و ادیب عظیم انصاری نے اپنا شعری مجموعہ “مٹھی میں دنیا” پیش کیا۔ اس موقعے پر مغربی بنگال انجمن ترقی اردو ھند کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر واصف اختر اور کانکی نارہ و جگتدل انجمن کے سرپرست و صوبائی کمیٹی کے سنیئر رکن خواجہ احمد حسین دیکھے جا سکتے ہیں۔ عظیم انصاری مرکزی حکومت کے سابق ڈیفنس افسر رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر واصف اختر نے کہا کہ عظیم انصاری کا شمار بنگال کے فعال سینئر شاعروں اور ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ان کی تخلیقات اور مضامین مخلتف میڈیا کے توسط عوامی سطح پر نظروں سے گزرتی رہتی ہیں۔ گزشتہ دنوں عظیم انصاری کے ادبی اختصاص و شخصی انفراد سے متعلق خوب معلوماتی مضمون خواجہ احمد حسین(کانکی نارہ)، ڈاکٹر مظفر نازنیں(کلکتہ)، عالیہ خان(پٹنہ)، محمد ایوب انصاری(جگتدل) ، رئیس اعظم حیدری(کلکتہ)، نصراللہ نصر(ہوڑہ) اور ناہید اختر(ہوڑہ) کے قلم سے اخبارات و رسائل میں پڑھا گیا۔ وزیر محترم جاوید احمد خان متذکرہ کتاب کی سرخی سے بہت متاثر ہوئے۔ موصوف اپنے ساتھ ایک عدد کتاب پڑھنے کے لیے بھی لے کر گئے۔ سامعین میں مغربی کے مختلف ضلعوں سے دانشوران، شعرا ، ادبا اور صحافیوں کی خاصی تعداد موجود رہی‌‌۔ رپورٹ : آفتاب عالم

ہر سال کی طرح اس سال بھی 29فروری تا7مارچ2024ء بنگلورو کے اورین مال کے 13 سنیما گھروں میں15 واں بین الاقوامی فلمی میلہ بہت ہی شاندار پیمانہ پر منعقد ہواتھا۔ اس میلہ میں تقریباً60ممالک سے آئی ہوئی 200فلموں کی نمائش ہوئی جس میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں احباب ذوق لطف اندوز ہورہے تھے۔ اس میلہ میں ایک بہت ہی دل افروز بات یہ تھی کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی تقریباً12اسلامی ممالک سے 26فلمیں آئی ہوئی تھیں۔ان میں سب سے زیادہ فلمیں ایران سے 11ترکی سے 4 مراقش سے 2اور یمن ، سوڈان ، ازبکستان ، قزاقستان، فلسطین، تونیزیا، انڈونیشیا ، الجیریا اور اردن سے ایک ایک تھیں۔ سات دن کے وقفہ میں وقت کے تضاد اور کمی کی وجہ سے ساری 26 فلموں سے لطف اندوز ہونا تو نا ممکن تھا مگر میں نے جتنی بھی فلمیں دیکھیں ہر فلم ہدایت کاری اوراداکاری کے لحاظ سے ہالی ووڈ کی فلموں سے کم نہ تھیں۔ مگر ان میں سب سے شاہکار فلم ، فلسطین جیسے ایک مظلوم ملک کی رہنے والی خاتون ہدایت کارہ فراہ نبولس کی ’’دی ٹیچر‘‘ تھی۔ اس میں فراہ نبولس نے حقائق پر مبنی دہائیوں سے فلسطینیوں پر اسرائیل کے ہونے والے ظلم و جبر کی داستان بہت ہی مؤثر اور دل سوز انداز میں پیش کی ہے ۔ اس فلم میں نہ صرف ناظرین سے سنیما ہال بھر پور تھا، بلکہ اختتام پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا ۔ یہ فلم کیانس فلم فیسٹیول میں بھی کافی مقبول ہوئی تھی۔
ایران کی چند فلموں میں دو بہت ہی نادر انداز میں بنائی گئی فلمیں تھیں۔ علی اصغر اور علی رضا کی فلم ’’ ٹیریسٹریل ورسس‘‘ تھی جسم یں ایران کے ہر سماجی شعبہ میں انتہائی مذہبیت کا اظہار تھا۔
دوسری عالمی شہرت یافتہ ہدایت کار عباس کاروستھی کی فلم ’’ ہوم ورک ‘‘ میلہ میں کافی مقبول ہوئی، جس میں بہت ہی دلچسپ انداز میں یہ بتایا گیا تھا کہ کیسے کمسن طلباء کو اسکولوں اور گھروں پر ہوم ورک کے نام پر جسمانی اور ذہنی اذیت دی جاتی ہے۔ عالمی حقیقت پر یہ ایک سبق آموز فلم تھی۔ ان دونوں فلموں کی ایک اور انفرادیت یہ تھی کہ فلم میں کوئی آؤٹ ڈور شوٹنگ نہیں تھی بلکہ دونوں فلمیں بند کمروںمیں صرف گفتگو کے ذریعہ دکھائی گئی ہیں۔
ایران کے ایک اور ہدایت کار عباس امینی کی فلم ’’اینڈلیس بار ڈرس‘‘ بھی کہانی کے لحاظ سے قابل دید تھی جس میں دکھایا گیا ہے کہ افغانستان سے طالبان کے دور حکومت میں بھاگے ہوئے لوگ کس کسمپرسی کے عالم میں ایران کی سرحدوں پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ترکی میں نیہیر تونا کی بنائی گئی فلم ’’ ڈارمیٹری‘‘ 1991 کے دور کی ایک دلچسپ کہانی ہے، جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ترکی میں کمال اتاترک کی جدیدیت کے بعد ایک انتہا پسند اسلامی دور میں نوجوان نسل کیسے دو تہذیبوں کے درمیان ایک کشمکش میں مبتلا رہی۔
مراقش کی ایک بہت ہی تجرباتی فلم ایک خاتون ہدایت کار اسماء ال مودیر کی بنائی گئی ’’مدرآف آل لائیس‘‘تھی جس میں سن 1981 میں کیسا بلانکا میں خود اسماء کے خاندان نے کیسے حکومت کی جانب سے ہوئی بربریت اور قتل عام کو برداشت کیا تھا اور اس سانحہ کو اسماء نے ہاتھوں سے بنائی گئی پتلیوں کے ذریعہ بہت ہی موثر اور ڈرامائی انداز میں پیش کیا ہے۔ اس فلم کو خود مراقش حکومت نے آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد کیا تھا۔
اسی طرح الجیریا سے آئی ہوئی ایک فلم’’ سکس فیٹ اوور‘‘ میں کریم بن صلاح نے بہت خوبصورتی سے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ جس طرح صوفیان، الجیریا کے ایک طالب علم کو فرانس کے ایک شہر لیان میں اپنی انفرادیت قائم رکھنے کے لئے جو پرشانیوں و تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ کسی بھی طالب علم کے ساتھ ایک غیر ملک میں ہوسکتا ہے ۔
موجودہ دور میں سوشیل میڈیا کے ذریعہ جھوٹی خبروں کی تشہیر کرنا کتنا خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ اس کا اظہار انڈونشیا کے ایک نامور ہدایتکار ریگاؤ بھانوتیجانے اپنی تکنیکی فلم ’’انڈراگاگی‘‘ میں اجاگر کیا ہے ۔ پرانی ایک اسکول کی خاتون استاد نے جب سڑک پر ایک نا انصافی کے خلاف احتجاج کیا توکیسے ایک بلاگر نے اس کو ریکارڈ کر کے سوشیل میڈیا پر نشر کیا اور لوگوں نے اس کا غلط مطلب نکالا جس کی وجہ سے اس کو ذہنی اذیت بھی ہوئی اور اسکی ترقی بھی رک گئی۔
اردن میں امجدال رشید کی بنائی گئی فلم ’’ ان شاء اللہ اے بوائے ‘‘ خاندانی جھگڑوں میں الجھی ایک صاف ستھری فلم تھی جس میں ایک بیوہ عورت کی جائیداد کو اس کے سگے نے ہڑپ کر اسے لاچار بنادیاتھا۔ یمن جیسا ایک غریب ملک جب ایک دہائی تک جنگ میں مبتلا ہوا تو وہ کتنا تباہ ہوا تھا اس کا اظہار امر جمال نے اپنی فلم ’’ دی برڈنڈ‘‘میں بہت ہی درد ناک انداز میں پیش کیا ہے ۔اردن شہر میں مقیم احمد کی بیوی جب حاملہ ہوئی تو موجودہ بچوں کی تعلیم و پرورش اور غربت کے بوجھ نے جب اس کو بیوی کا حمل گرانے پر مجبور کیاتو مذہبی اصولوں نے اس کو اور لاچار کر دیا تھا۔
اسی طرح قزاقستان جسے کم ترقی یافتہ ملک میں اردک امرکولو اپنی فلم ’’دی لینڈ وہیر ونڈس اسٹوڈ سٹل‘‘ کے ذریعہ بہت ہی خوبی سے یہ دکھایا ہے کہ سن 1930 میں ایک بے بس عورت اپنے بچوں کے ساتھ اپنے شوہر کی تلاش میں نکلی تو وہ تنہا نہیں تھی بلکہ اس ملک میں اس جیسے کئی اور بدحال اور بد نصیب لوگ اپنے مستقبل کی تلاش میں سر گرداں تھے۔
سوڈان سے آئی ہوئی ایک مشہور ہدایت کار محمد کوردوفانیکی فلم’’ گڈ بائی جولیا ‘‘ان تمام فلموں سے جدا ایک سنسنی خیز فلم تھی جس میں اس حقیقت کو بہت ہی دلچسپ انداز میں پیش کیاگیا تھا کہ کوئی بھی جرم ہمیشہ چھپایا نہیں جاسکتا۔ تونیزیا میں ایک خاتون ہدایت کار کاوتیر بن بانا کی بنائی ہوئی فلم’’ فورڈاٹرس ‘‘ اولفا اور ان کی چار لڑکیوں کی نجی زندگی کو بہت ہی ڈرامائی انداز میں پیش کیاگیا تھا۔اسلامی ممالک میں بنی ان تمام فلموں میں ہدایت کاروں کی ایسی فنکاری تھی کہ ان کی نگاہ اصل موضو ع سے ہٹتی ہی نہیں۔
تقریباً سبھی فلمیں ماضی کے حقیقی واقعات پر مبنی یا موجودہ دور کے حالات کی عکاسی کرتی تھیں۔ ان میں نہ تو گیتوں اور ناچوں کا کوئی شور و غل تھا اور نہ ہی لاکھوں روپیوں سے سجائے گئے سیٹ تھے۔ کچھ فلموں میں تو پس منظر میں موسیقی بھی نہیں تھی ۔ ایسا لگتا تھا کہ ایک خاموش ماحول میں یہ تمام واقعات اپنی آنکھوں کے سامنے رونماہورہے ہیں۔ یہ تمام فلمیں اپنے ملک کی مقامی زبان جیسے فارسی، عربی ، ترکی ، ازبکی، اور قزاقی میں بنی تھیں۔ جس میں انگریزی سب ٹائٹلز تھے ۔
ایک اور اہم بات یہ تھی کہ ان تقریباً26فلموں میں4فلموں کی ہدایت نامور عورتوں نے دی تھی۔بین الاقوامی فلمی دنیا سے مقابلہ کرتی ہوئی اسلامی ممالک کی اس ضمن میں ترقی و ترویج قابل دید و توصیف ہے ۔
ڈاکٹر ریاض اﷲ

Email. syedaafakh10@gmail.com

چین کا نیا قمری سال 10 فروری سے شروع ہو چکا ہے اس سال کو ڈریگن سے منسوب کیا گیا ہے ۔چینی قمری سال بارہ جانوروں سے منسوب کیا جاتا ہے ان جانوروں میں چوہا ،بیل، ٹائیگر، خرگوش، ڈریگن ،سانپ، گھوڑا ،بکری، بندر، مرغا، کتا اور سوور شامل ہیں۔
گزشتہ برس خرگوش کا سال تھا جبکہ موجودہ سال ڈریگن کا ہے۔چینی لوک روایت کے مطابق ڈریگن کو بہت اہمیت حاصل ہے ۔مغرب میں ڈریگن کو خطرناک آگ پھینکنے والا تباہی مچانے والا جانور سمجھا جاتا ہے جبکہ چینی لوک کہانیوں میں ڈریگن ایک دیوتا کی شکل رکھتا ہے جو لوگوں کی حفاظت کرتا ہے انتہائی پھرتیلا اور چاق و چوبند ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ دنیا کے خزانے اس کے پاس ہیں لہٰذا چینی قوم اس بار ڈریگن کے سال کو بہت خوشی سے منا رہی ہے انہیں امید ہے کہ اس سال وہ بہت پھرتی اور تیزی سے ترقی کریں گے اور معاشی طور پر بھی خوشحالی آئے گی ۔
چین دنیا کاتیزی سے ترقی کرتا ملک ہے لیکن چینی قوم کی ایک خاصیت ہے کہ یہ اپنی ثقافت اپنی تاریخ پر نازاں ہیں اپنے تہواروں کو بھرپور طریقے سے مناتے ہیں ۔اس بار بھی نہ صرف پورے چین میں بلکہ دنیا کے دیگر بہت سے ممالک میں بھی نیا سال اور جشن بہاراں بہت جوش و خروش سے منایا گیا۔ایک اندازے کے مطابق صرف چین میں سپرنگ فیسٹیول پر 2.3 بلین بار سفر کیا گیا۔پورے چین کو خوبصورت سرخ لال ٹینوں، ڈریگن سے سجایا گیا۔اس موقع پر روایتی سات کھانے بھی بنائے جاتے ہیں۔گھروں بازاروں کو روشنیوں سے سجا دیا جاتا ہے۔چھوٹے بچوں کو سرخ رنگ کے لفافوں میں عیدی دی جاتی ہے۔
سپرنگ فیسٹیول کی رات ٹی وی پر سپرنگ فیسٹیول گالا نائٹ منائی گئی جس میں بیجنگ سے لے کر ارومچی تک پورے چین میں ہونے والی تقریبات روایتی رقص رنگ و نور کی محفلیں دکھائی گئیں ۔اپنے خاندان والوں کے ساتھ سپرنگ فیسٹیول گالا دیکھنا سپرنگ فیسٹی ویل کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے ۔دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی برادر ملک چین کی خوشیوں میں شریک ہوا۔
اس سلسلے میں پشاور میں قائم چینی ثقافتی مرکز چائنہ ونڈو میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا ۔پورے سینٹر کو سرخ چینی لال ٹینوں، سرخ غباروں سے سجایا گیا ۔دیواروں پر ڈریگن کے پوسٹرز آویزاں کئے گئے ۔اس موقع پر شہید بے نظیر یونیورسٹی کی طالبات کی سپرنگ فیسٹیول اور ڈریگن پر مبنی پینٹنگز اور ہینڈی کرافٹس کی نمائش بھی منعقد ہوئی۔تقریبات کا آغاز صبح سے ہی ہو گیا ۔رنگ برنگے پوسٹرز پینٹنگز چینی لال ٹینوں سے سجا سچایا ونڈو شہریوں کی توجہ کا مرکز تھا یہ تقریبات پاکستان اور چین کی لازوال دوستی کا مظہر ہیں ۔چائنہ ونڈو میں خاص طور پر ٹی وی کی بڑی سکرینوں پر سارا دن سپرنگ فیسٹیول گالا کی دلچسپ ویڈیوز دکھائی جاتی رہیں جس میں وزیٹرز نے خصوصی دلچسپی لی۔اس موقع پر روایتی موسیقی کا اہتمام کیا گیا تھا ۔گلوکار وں نے پشتو اور انگلش کے ملاپ سے دل چسپ گیت گا کر چینی صدر جناب شی جن پنگ اور چینی بھاٸیوں کو محبت بھرا پیغام بھیجا ۔
معزز مہمانان گرامی میں نگران صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ظفر اللہ خان ،نگران صوبائی وزیر توانائی و منصوبہ بندی ڈاکٹر سید سرفراز علی شاہ ،سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فواد اسحاق ،اکادمی ادبیات پاکستان کی چیئر پرسن پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف ،ڈائریکٹر جنرل اکادمی ادبیات پاکستان سلطان محمد نواز ناصر،ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس محمد علی بابا خیل، سکواش کے سابق عالمی چیمپین قمر زمان ،خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر حسین چاقومی، نامور شاعرہ اور ادیبہ ڈاکٹر شاہد سردار نامور فنکاروں کھلاڑیوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔اس موقع پر عام شہریوں کی بڑی تعداد سپرنگ فیسٹیول کی تقریبات میں شامل ہوئی ۔نمائش میں حصہ لینے والی شہید بے نظیر یونیورسٹی کی طالبات میں چائنہ ونڈو کی جانب سے اعزازی سرٹیفیکیٹ تقسیم کیے گئے ۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کا برادر ملک ہے جس کے ساتھ ہمارے دل بھی جڑے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں چائنہ ونڈو آ کر ایسا لگا جیسے ہم چین میں موجود ہیں۔چائنہ ونڈو نے جس طرح چھوٹی سی جگہ پر پوری چینی ثقافت کو اجاگر کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔چائنہ ونڈو نے دونوں ممالک کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس موقع پر صدارتی ایوارڈ کے لیے نامزد ہونے والی خیبر پختون خواہ کی مختلف شخصیات جن میں آئی جی خیبر پختون خواہ اختر حیات گنڈاپور،ڈی آئی جی قریش ،اسیر منگل ،عشرت عباس، عجب گل، فضل وہاب ،ہمایوں خان، الماس خان خلیل اور عزیز اعجاز کو چائنہ ونڈو کی جانب سے خصوصی شیلڈز سے نوازا گیا۔مہمانوں کی تواضع سوپ اور پرتکلف کھانے سے کی گئی۔تقریب میں شریک عام شہریوں کا کہنا تھا کہ سپرنگ فیسٹیول چینی بھائیوں کا ایک اہم تہوار ہے چائنہ ونڈو پشاور میں اس تہوار کو بھرپور طریقے سے منا کر ہم اپنے چینی بھائیوں کی خوشیوں میں برابر کے شریک ہیں۔

پھلواری شریف پٹنہ مورخہ 12/فروری 2024 (پریس ریلیز :محمد ضیاء العظیم )ضیائے حق فاؤنڈیشن کی جانب سے مدرسہ ضیاء العلوم البا کالونی پھلواری شریف پٹنہ میں مورخہ 11/فروری 2024 بروز اتوار بوقت 02/بجے دوپہر ضیاء فتح آبادی کے 111 ویں یومِ پیدائش پر ایک خوبصورت مشاعرہ اور ضیاء فتح آبادی کی حیات وخدمات پر منحصر “ضیاء فتح آبادی حیات اور کارنامے ” نامی کتاب کا رسم اجراء عمل میں آیا ۔
پروگرام دو حصوں پر مشتمل تھا، پروگرام کی صدارت مشہور ومعروف بزرگ شاعر شمیم شعلہ نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض سید رضوان حیدر اور شکیل سہسرامی نے انجام دیا ۔ پروگرام کی شروعات تلاوت قرآن پاک سے عزیزم فیصل نے کیا ۔
برانچ اونر محمد ضیاء العظیم نے ضیائے حق فاؤنڈیشن کا تعارف اور ضیاء فتح آبادی کے حیات وخدمات اور فن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضیاء فتح آبادی اردو ہندی زبان وادب کے مشہور ومعروف اور مقبول افسانہ نگار، تنقید نگار، ساغرؔ نظامی، جوشؔ ملیح آبادی، میراؔ جی اور ساحرؔ ہوشیار پوری کے ہم عصر اور استاد شاعر سیمابؔ اکبر آبادی کے شاگرد ہیں۔ضیاء فتح آبادی کا اصل نام مہر لال سونی تھا۔ وہ کپورتھلہ پنجاب میں اپنے ماموں شنکر داس پوری کے گھر 9؍فروری 1913 کو پیدا ہوئے۔ وہ ایک اردو نظم نگار و غزل گو شاعر تھے۔ انکے والد منشی رام سونی فتح آباد ضلع ترن تارن پنجاب کے رہنے والے تھے اور پیشے کے اعتبار سے ایک مدنی مہندس تھے۔ ضیاء فتح آبادی نے اپنی ابتدائی تعلیم جےپور راجستھان کے مہاراجہ ہائی سکول میں حاصل کی اور اسکے بعد 1931 سے لیکر 1935 تک لاہور کے فورمین کرسچن کالج میں پڑھتے ہوئے بی اے (آنرز) (فارسی) اور ایم اے (انگریزی) کی اسناد حاصل کیں اسی دوران انکی ملاقات کرشن چندر ، ساغرؔ نظامی ، جوشؔ ملیح آبادی ، میراؔ جی اور ساحرؔ ہوشیارپوری سے ہوئی۔ ان احباب میں آپس میں ایک ایسا رشتہ قائم ہوا جو تمام عمر بخوبی نبھایا گیا۔
بعدہ ضیاء فتح آبادی کے حیات وخدمات پر “ضیاء فتح آبادی حیات اور کارنامے” کا رسم اجراء عمل میں آیا، اس موقع پر مشہور ومعروف شاعر وادیب، مترجم ،شکیل سہسرامی نے ضیائے حق فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں سے آگاہ کراتے ہوئے کہا کہ یہ وہ تنظیم ہے جس نے قوس صدیقی، ناشاد اورنگ آبادی ،شمیم شعلہ ،خالد عبادی، افتخار عاکف، دلشاد نظمی ، شکیل سہسرامی ، اور بھی دیگر شعراء وادباء کو اعزاز سے نواز چکی ہے، ہمیں اس تنظیم کی سرگرمیاں دیکھ کر بیحد خوشی ومسرت اور شادمانی ہوتی ہے، کیوں کہ یہ تنظیم اردو ہندی زبان وادب کی ترویج وترقی کے لئے مستقل کوشاں رہتی ہے، اس تنظیم کے زیر انتظام طلبہ وطالبات اپنی علمی پیاس بجھا رہے ہیں،میں خصوصی طور پر ڈاکٹر صالحہ صدیقی چئیر پرسن ضیائے حق فاؤنڈیشن اور محمد ضیاء العظیم برانچ اونر ضیائے حق فاؤنڈیشن کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔ اس کے بعد ضیاء فتح آبادی کے حیات وخدمات اور تصنیفات کا اجمالی خاکہ پیش کیا ۔
مشہور ومعروف شاعر ظفر صدیقی نے بھی اپنی مثبت تاثرات سے نوازتے ہوئے فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کیا ۔انھوں نے ضیاء فتح آبادی کے اس شعر کے ساتھ پروگرام کی ابتداء کی کہ:بڑھ کر مہ و انجم سے ضیائے اردورنگینی و دلکشی برائے اردواپنی جسے کہہ سکتے ہو ہم سب مل جل کرہے کوئی زباں اور سوائے اردواس کے بعد مشاعرہ کا باضابطہ آغاز ہوا، مشاعرہ میں پڑھے گئے شعراء کے نام اور ان کا شعر
ماں کبھی دیتی نہیں ہے بددعا کیا ہوئی تجھ سے خطا معلوم کر ڈاکٹر نصر عالم نصر
جو چلیں خود نظر سے اوروں کی کاروبار ان کا رہنمائی ہے سید رضوان حیدر
زندہ رہنا کتنا مشکل ہے مرجانا آسان ہے بابا سہیل فاروقی
بہت سخت نازاں ہوا ان سے ملنا نگاہوں پہ پہرے ہیں، سپاہی گلی میں ڈاکٹر شمع ناسمین نازاں
میر یہ سچی کہانی تیری ہی اردو کی ہے گھر کی دلہن اپنے ہی گھر میں رکھیلی ہوگئی میر سجاد
راحت پسند دیکھ لو منزل قریب ہے مایوس نہ ہو راستہ دشوار دیکھ کر مصلح الدین کاظم
اکیلے گھر سے نہ نکلا کرو تم بہت بگڑی ہے دنیا کی ہوا دیکھو معین گرڈیہوی
آپ کی ذہانت پر کون خوش نہیں گا آپ تو بزرگوں کی خامیاں پکڑتے ہیں ظفر صدیقی
اہل ضمیر ہیں بہت حیران آج کل شیشے میں اپنے آپ کو انسان دیکھ کر اصغر حسین کامل
موج خوں، حسن چمن، رنگ وشفق، شام وصال تیرے گھر کا سارا منظر جانا پہچانا لگا اسرار عالم سیفی
وہ دل بھی کتنا جہاں میں حسین رکھتا ہے جو اپنے سینے میں ہر وقت دین رکھتا ہے وارث اسلام پوری
تیری حیرت کا یہ سامان بھی ہو سکتا ہے سنگ ریزہ کبھی چٹان بھی ہو سکتا ہے شمیم شعلہ
تم پہ مرتا ہوں، میں سچ کہتا ہوں، اللہ قسم تم مجھے جان وفا چھوڑ کے جایا نہ کرو محمد ضیاء العظیم
آخر میں صدر محترم کے صدارتی کلمات پر پروگرام اختتام پذیر ہوا ۔
واضح رہے کہ ضیائے حق فاؤنڈیشن کی بنیاد انسانی فلاح وترقی، سماجی خدمات، غرباء وفقراء اور ضرورتمندوں کی امداد، طبی سہولیات کی فراہمی، تعلیمی اداروں کا قیام، اردو ہندی زبان وادب کی ترویج وترقی، نئے پرانے شعراء وادباء کو پلیٹ فارم مہیا کرانا وغیرہ ہیں، فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام صوبہ بہار کے دارالسلطنت شہر پٹنہ کے پھلواری شریف میں ضیائے حق فاؤنڈیشن کا برانچ اور ایک مدرسہ کاقیام ،، مدرسہ ضیاء العلوم،،عمل میں آیا ہے، جہاں کثیر تعداد میں طلبہ وطالبات دینی علوم کے ساتھ ساتھ ابتدائی عصری علوم حاصل کر رہے ہیں ۔اس پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں خصوصی طور پر ڈاکٹر نصر عالم نصر رکن ضیائے حق فاؤنڈیشن ،ڈاکٹر صالحہ صدیقی چئیر پرسن ضیائے حق فاؤنڈیشن ،محمد ضیاء العظیم برانچ اونر ضیائے حق فاؤنڈیشن نے اپنا تعاون پیش کیا، جبکہ عمومی طور پر جملہ اراکین ضیائے حق فاؤنڈیشن نے تعاون دیا ۔

function in honor of Dr Ramosha Qamar at Bidar
function in honor of Dr Ramosha Qamar at Bidar

شاہین ادارہ جات بیدر کی جانب سے”یومِ اُردو“ کے موقعے پر نئی نسل کی نمائندہ قلم کار اور نہایت ہی فعال مصنفہ ڈاکٹر رمیشا قمر (قمر النساء) کی کتاب ”ارژنگ قلم“مغربی بنگال اردو اکادمی برائے تحقیقی ادب عبدالرؤف ایوارڈ کے لیے منتخب کئے جانے پر ایک پُر وقار تہنیتی پروگرام کا اہتمام کیا گیا جس میں ڈاکٹررمیشا قمر کی ساتویں کتاب”غضنفر شناسی“کا اجرا بھی عمل میں آیا ۔یہ شاندار اور پر وقار تقریب شاہین کیمپس میں واقع العزیز آڈیوٹیوریم میں زیرِ صدارت مشہور و معروف ماہر تعلیم محترمہ مہر سلطانہ منعقد ہوئی۔
صدر جلسہ محترمہ مہر سلطانہ صاحبہ نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ ہماری ریاست کے لیے یہ خبر باعث ِ صدافتخار ہے کہ ہماری سر زمین کی ایک نوجوان اسکالر ایک قومی سطح کے ایوارڈ کے لیے منتخب کی گئی۔ اور مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ ڈاکٹر رمیشا قمر کی ساتویں کتاب ” غضنفر شناسی ” کی رونمائی کی رسم بھی ہمارے ادارے کے کیمپس میں ادا کی گئی۔ انھوں نے اپنے ادارے کی طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ سب کو بھی رمیشا قمر کی تقلید کرنی چاہیے۔ میں چاہتی ہوں کہ ہمارے ادارے سے بھی کچھ رمیشاقمر نکلیں جو اپنی پرواز سے شعرو ادب کی بلندیاں بھی حاصل کریں
۔اس بچی نے جو تحقیقی و تنقیدی کام کیے ہیں وہ آپ سب کے لیے مشعل راہ اورباعث تقلید ہیں۔ آپ بھی اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کیجیے تاکہ آپ بھی اپنے شہر اور ریاست کانام پوری دنیا میں روشن کرسکیں۔
شہر بیدر کی سینئر اسکالر محترم اقبال النساءصاحبہ نے اپنے خیر مقدمی کلمات میں فرمایا کہ ہمارے ادارے کے لیے
یہ اعزاز کی بات ہے کہ ہم ایک ادیبہ,شاعرہ اور دو انٹرنیشنل رسالوں کی مدیرہ کا اپنے اس ادارے میں استقبال کر رہے ہیں۔ اس موقع پر انھوں نےڈاکٹر رمیشاقمرکی شخصیت اور ان کی ادبی خدمات کا تفصیلی تعارف بھی کرایا اور کہا کہ ڈاکٹر رمیشاقمر کی آمد ہماری طالبات کے لیے مفید ثابت ہوگی اور ہماری طالبات کے اندر بھی ان کی طرح آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا ہوگا ۔
اس موقع پر مہمانِ ذی وقار ڈاکٹر ارم فاطمہ صاحبہ نے اظہارِ خیال کرتے ہوۓ فرمایا کہ رمیشاقمر ان گنے چنے طالبات میں سے ایک ہیں جو دوران تعلیم مصنفہ بن جاتی ہیں ۔اپنی ریاست ِ کرناٹک کی ایسی مایٌہ ناز بیٹی پر ہمیں فخر ہونا چاہے۔انھوں نے نہایت اعتماد کے لہجے میں یہ بھی کہا کہ مستقبل میں رمیشا قمر کی ادبی تخلیقات اُردو ادب کے اُفق پرمانند ِ چاند چمکیں اور ادبی فضاؤں میں اپنی چاندنی بکھیریں اس موقع پر انھوں نےڈاکٹر انجم شکیل کی اردو زبان کے حوالے سے ایک نظم بھی پیش کی۔
مہمان خصوصی صببیحہ خاتون نے یوم اردو کے موضوع پر ایک نظم سنائی اور پھراپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ نئی نسل کی مصنفہ ڈاکٹر رمیشاقمر صاحبہ نے اتنی کم عمری میں اتنا کچھ کر دکھایا ہے واقعی ان کی شخصیت قابل تعریف ہے اور لائق ِ تقلید بھی ۔ میں ان کے روشن مستقبل کے لیے دعا گو ہوں کہ ان کا قلمی, علمی و ادبی سفر یوں ہی رواں دواں رہے اور شاہین ادارہ بھی ہمیشہ یوں ہی ترقی کی راہ پر گامزن رہے ۔
اس تہنیتی جلسے کے موقع پر ڈاکٹررمیشاقمر کی نئی کتاب” غضنفر شناسی” کا اجراء ان کی والدہ محترمہ خیر النساء جاگیردار صاحبہ کے ہاتھوں عمل میں آیا اور اس کتاب کے متعلق ڈاکٹر مستقیم بیگم نے ایک طویل مقالہ پڑھا جس میں انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر رمیشا قمرنے یہ بہت ہی اہم کام کیا ہے ۔غضنفر شناسی ایک ایسی دستاویز ہے جس میں غضنفر کے فکر و فن کی تقریبا تمام جہتیں سمٹ آئی ہیں ۔ اس کتاب پر رمیشا قمر کا بسیط مقدمہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ انھوں نے مزید فرمایا کہ رمیشا قمرکے اندر تنظیمی تحقیقی اور تنقیدی صلاحیتیں بدرجہ اتم موجود ہیں ۔اس کے علاوہ ان کے اندر تلاش و جستجو کا ایک ایسا جذبہ بھی موجود ہے جو اس طرح کی مہم جوئی پر ان کو آمادہ کرتا رہتا ہے ۔
اس پروقارتقریب کی روح رواں جن کے اعزاز میں یہ تقریب منعقد کی گئی تھی ڈاکٹر رمیشاقمر نے اپنی گفتگو کی ابتداء اردوزبان پر لکھی اپنی نظم سے کی۔ پھر انھوں نے طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ زندگی میں کامیابی کے لیے دو شمشیریں ایسی ہیں جن سے کوئی بھی قلعہ فتح کیا جا سکتا ہے۔ ایک عزم مصمم اور دوسری سعی پیہم ۔ان ہی دو شمشیروں سےڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کا ” شاہین” جیسا اتنا بڑا ادارہ بھی قائم ہوا ہے ۔مصمم ارادہ اور عمل پیہم سے ہی میرے بھی حصے میں یہ کامیابی آئی ہے ۔آپ سب کو بھی چاہیے کہ ان شمشیروں کو مضبوطی سے پکڑے رہیں کامیابی ان شاءاللہ آپ کے قدم چومے گی ۔
مجھے خوشی ہے کہ شاہین جیسے بڑے اور نامور ادارے نے اس ادنی سی طالبہ کی ہمت افزائی کے لیے اتنی باوقار تقریب کا انعقاد کیا ۔ میری کتاب “ارژنگ قلم” کو قومی ایوارڈ ملنا ہی میرے لیے بہت بڑی بات تھی مگر شاہین ادارہ جات نے اس کے لیے اتنی خوبصورت تہنیتی تقریب کے ساتھ میری کتاب “غضنفرشناسی” کےاجراء کا بھی اہتمام کیا اورمزید خوشی اور فخر کی بات یہ ہے کہ یہ اجرا ءمیری والدہ محترمہ خیر النساء جاگیردار صاحبہ کے ہاتھوں عمل میں آیا۔
اس پروگرام کی کنوینر محترمہ بلقیس فاطمہ صاحبہ نے بہت ہی عمدہ نظامت کی اور دوران نظامت انہوں نے ڈاکٹر رمیشاقمر کی شخصیت اور ان کے فن کی مختلف خوبیاں بیان کںیں۔ انہوں نے فرمایا کہ رمیشاقمر کے کتابوں کی ضخامت بتاتی ہے کہ وہ کتنی محنت کرتی ہیں اور اپنا وقت کس قدر علم و فن پر صرف کرتی ہیں ۔یوم اردو کے حوالے سے انھوں نے اقبال اشعر کی مشہورنظم “اردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی” بھی پیش کی ساتھ ہی شاہین ادارہ جات کی خدمات کو بھی بیان کیا۔
شاہین ادارے کے معصوم سے طالب علم محمد انس نے قرات کلام پاک پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ۔محترمہ ڈاکٹر مستقیم بیگم نے بارگاہ رسالت میں نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا اورمستقیم بیگم نے اپنی مترنم آواز میں ڈاکٹر رمیشاقمر کے لیے دعائیہ کلام بھی سنایا ۔
خدایا ہماری یہی ہے دعا
رمیشا کو بس نظر بد سے بچا
ترقی کی منزل پہ چلتی رہے
عطارب کی یوں ہی برستی رہے
اظہار تشکر کا فریضہ ڈاکٹرسرورترنم نے ادا کیا اور ڈاکٹر مستقیم بیگم کے دعائیہ کلمات کے ساتھ جلسہ اختتام پذیر ہوا ۔
رپورٹ محمدامین نواز

کانکی نارہ ( بنگال ، انڈیا ) میں مقیم جگتدل شمس اردو پرائمری اسکول کے سنجیدہ اور مشفق استاذ اور جواں سال شاعر و ادیب خطاب عالم شاذ کے نام ایک ادبی شام پرولیا کے شاندار “ہِل ایونیو ہوٹل” کے کانفرنس ہال میں مورخہ 8/ جنوری 2024 کی شام بعد نماز مغرب زیرِ اہتمام کانکی نارہ الفلاح کوآپریٹِو کریڈٹ سوسائٹی منعقد کیا گیا۔ مخصوص و منسوب مشاعرہ کھردہ مکتب ہائی اسکول کے سینئر استاذ محترم اسلم خرم پرویز کی صدرات اور خاکسار نسیم آتش کی نقابت میں پروگرام شام تا رات ساڑھے نو بجے تک بڑی کامیابی سے چلا۔ مہمانِ ذی وقار کی حیثیت سے مترجم ، مبصر ، شاعر اور ادیب عظیم انصاری ، ڈاکٹر خورشید اقبال (ماہنامہ ‘کائنات’ کے مدیر اور معروف شاعر و ادیب) اور بنیادی ممبر جناب شمیم جہانگیری (سابق سکریٹری و خازن) شہ نشین پر جلوہ افروز رہے۔ مخصوص منسوب شام کا آغاز معتبر شاعر عظیم انصاری کے نعتیہ کلام سے ہوا۔ فیصل کریم بن محمد رئیس نے بھی ایک نعتیہ کلام اور چند اشعار ترنم میں پیش کیا۔ معروف افسانہ نگار شمیم جہاں گیری نے مترنم آواز میں نعتِ سرور کونین اور غزل کو پڑھ کر سب کی حیرانگی کا سبب بنے۔احسن اریب (معراج) نے اپنے والدِ محترم وفا سکندر پوری (صاحبِ کتاب شاعر) کی غزلیں ، منظر بھوپالی اور شبینہ ادیب کے منتخب اشعار پڑھ کر سب کو تازہ دم کیا۔ داراب اسحر ابن خ۔ ع۔شاذ نے اور بنگال کے اولین صاحبِ کتاب ناول نگار بشیر الدین ظامی کی ننھی پوتی سمیہ پروین بنت شکیل ظامی نے پیاری آواز میں نظم پڑھ کر خوب دعائیں حاصل کیں۔ ہونہار فرحان دانش جہانگیری نے معروف شاعر خورشید ملک (سابق ڈائریکٹر دوردرشن) کی مکمل غزل پڑھ کر محفل کو سنجیدہ شاعری کی طرف گامزن کیا۔ جواں سال شاعر و ادیب علی شاہد دلکش نے اپنی بہترین غزلوں کو دلکش آواز میں سُنا کر اپنی شاعری کا خوب نقش ثبت کیا۔ صاحبِ بزم خطاب عالم شاذ نے اپنی منظوم تخلیقات پیش کر کے نشست کو حقیقی طور پر اپنے نام کیا۔ ڈاکٹر خورشید اقبال نے ایک غزل اور ایک فرمائش نظم پیش کر کے حاضرین کو گرویدہ بنا لیا۔ غزل کی معتبر آواز عظیم انصاری نے ترنم میں خالص پڑھ کر ادبی نشست کو خالص ادب کی دہلیز پہ لا کھڑا کیا۔ خازنِ سوسائٹی محترم اقبال بیگ نے تشکرات پیش کیا۔ محترم ماسٹر اسلم خرم پرویز نے صدارتی خطبے اور اپنے پسندیدہ اشعار کے ساتھ ادبی شام کو خوشگوار ماحول کے حوالے کر دیا۔ سامعین میں فہیم اختر بنگلوری ، محمد اسلم ، محمد حامد ، شاہد پرویز ، محمد جہاں گیر ، جاوید اقبال ، قمر الزماں، شکیل ظامی، محمد جاوید، محمد انیس بیگ، محمد ندیم بیگ، ضیاء الحق، ضیاء الرحمن، احسن اریب، شرف الدین اور ذیشان اختر آتش حاضر و چست رہے۔ شدید سردی کے باوجود سارے شرکا اور حاضرین بشمول بزرگ، بچے اور مستورات اخیر اخیر تک موجود رہ کر محظوظ ہوتے رہیں۔
بقلم : *نسیم اتش*، سابق سکریٹری و بانی ممبر ادارہ ہذا۔

ادب کی ترویج و ترقی میں بہت سی تنظیمیں اور ادارے کام کر رہے ہیں ان میں سے ایک بزم علم و ادب بھی ہے جس نے بہت کم عرصے میں علم و ادب کے فروغ کے لئے نہایت اہم کام کیے اور
اس بزم کی شہرت اپنے علاقے سے نکل ہر سو پھیل گئ پچھلے سال کی طرح اس بار بھی اس تنظیم نے ایسی بزم سجائی جس کی گونج تا دیر سنائی دیتی رہے گی –
شہر سیالکوٹ جسےشہر اقبال بھی کہا جاتا ہے اس شہر میں بزم علم و ادب کے زیر اہتمام 30 دسمبر 2023ء کو ایک پر وقار اور منظم تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد زندگی کے مختلف شعبہ ہائے جات سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کی بہترین کارکردگی پر ان کی حوصلہ افزائی کرنا تھا _تنظیم کے ممبران تین ماہ کی مسلسل محنت اور اپنی لگن سے اس کو شاندار بنانے میں کامیاب ہوئے – ادب سے لگاؤ رکھنے والوں نے اس بزم میں آکر نہ صرف اسے رونق بخشی بلکہ ملک کے ہر کونے سے اپنی آمد کے ذریعے اس بزم اور اس کے بانی واراکین پر اپنے اعتماد کی مہر ثبت کی اس شہر کی رونقوں سے لطف اٹھانے کے ساتھ ساتھ بہت سا پیار اور محبتیں بھی سمیٹیں اور سب سے اہم یہ کہ اپنے محسن علامہ اقبال رح کے گھر جا کر اپنی عقیدت و محبت کا اظہار بھی کیا –
یوں کہنا بجا ہو گا کہ تنظیم بزم علم و ادب میں شرکت کے لیے ملک کے پانچوں صوبوں اور آزاد کشمیر تک کے تمام ستارے جن کے علم و فن اور ادبی تخلیقات کی گونج ان کے علاقے سے لے کر شہر سیالکوٹ تک پہنچ چکی تھی سب مدعو تھے جتنی خوب صورتی سےاس عمارت کو سجایا گیا تھا اس سے زیادہ خوب صورت اور باوقار انداز میں بزم کے بانی و صدر ” جناب نعمت اللہ ارشد گھمن” نے اپنی نظامت سے اس محفل کو چار چاند لگا دیئے –
اس پروقار تقریب کی صدارت پاکستان کے ممتاز ماہر اقبالیات ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے کی جبکہ مہمانانِ خصوصی ڈاکٹر سعید الحسن چشتی وائس چانسلر مائی یونیورسٹی اسلام آباد،جاوید اقبال بابر سی ای او ایجوکیشن سیالکوٹ ، فضل جیلانی چیئرمین ایئر سیال،کیپٹن(ر) عطا محمدخان، معروف سیاسی و سماجی شخصیت مرزا خرم زیب شاہ جی اور کاظم علی باجوہ چیئرمین علی پراپرٹی ڈویلپرز تھے۔اس کے علاوہ پنجابی کے معروف موٹیویشنل اسپیکر اویس گھمن سیالکوٹی ، رانا فیاض احمد مینیجنگ ڈائریکٹر مون لائٹ، عنایت رسول مینجر آفاق اور عبدالجلیل المعروف چاچا کرکٹ نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔
اس تقریب کا انعقاد مون لائٹ انٹرنیشنل پبلشرز، آفاق ایجوکیشن، یونائیٹڈ سکول ایسوسی ایشن اور ایئر سیال کے خصوصی تعاون سے کیا گیا۔تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت حافظ ضیغم عباس نے حاصل کی جبکہ معروف نعت گو شاعر تجمل حسین تجمل قادری نے ہدیہ نعت پیش کیا۔محمد عرفان الحق نے اپنی مترنم آواز میں کلام ِاقبال سنا کر ایک سماں باندھ دیا- محمد ایوب صابر سرپرست بزمِ علم و ادب نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔
آل پاکستان علامہ اقبال ایوارڈ 2023ء کی تقریب پانچ حصوں پر مشتمل تھی۔ اس تقریب کے پہلے حصے میں “علامہ اقبال ایوارڈ برائے کتب” پیش کیے گئے۔بزمِ علم و ادب کو پاکستان بھر سے ملنے والی کتب میں سے جن کتب کو ایوارڈ کے لیے نو رکنی ایگزیکٹو کمیٹی نے منتخب کیا ان میں “اردو تحقیق و تنقید ” کے حوالے سے ڈاکٹر محمد عامر اقبا ل کی کتاب “پروفیسر عبدالحق:احوال و آثار”، پروفیسر اشفاق نیاز کی کتاب”پروفیسر اصغر سودائی :قومی ہیرو”، محمد حسنین عسکری کی کتاب ” اُردو میں سلام گوئی” اور ثوبیہ رحمت کی کتاب “ڈاکٹر وسیم انجم کی اقبال شناسی” شامل تھیں۔ اُردو شاعری کی کیٹیگری میں تنویر احمد تنویر کی کتاب “تابِ سُخن” ، ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کی کتاب” مجال” ، ڈاکٹر عارف حسین عارف کی کتاب ” رات کی دہلیز پر” اور محمود حیدرپیرزادہ کی کتاب” قریہ جاں” ،نعتیہ شاعری کی کیٹیگری میں طالب حسین کوثری کی کتاب ” ثنائے رھبر عالم”، اقرار مصطفے کی کتاب “حُسنِ کُن” اور عرفان علی عرفان کی کتاب ” ورفعنا کی صدا” ، پنجابی شاعری میں پروفیسر شفقت رسول مرزا کی کتا “مینہ دیاں کنیاں” اور رفعت وحید کی کتاب” سولی ٹنگیا سورج”،پنجابی نثرکی کیٹیگری میں ڈاکٹر اکبر علی غازی کی کتاب”قصہ سوہنی مہینوال دی روایت، اُردو افسانے کی کیٹیگری میں منان لطیف کی کتاب”سلاخیں چیرتے ہاتھ”، عینی عرفان کی کتاب “مٹی کے مکیں”، حنا انصاری کی کتاب” ورائے اشک”اور قدسیہ شکیل کی کتاب” افسانوی دنیا”، اردو ناول کی کیٹیگری میں ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کی کتاب”کافرستان”، عیشا صائمہ کی کتاب”قرض مٹی کا”، ادبِ اطفال میں محمد شاہد حفیظ کی کتاب “مٹی کی محبت”، محمد جنید صدیقی کی کتاب ” کامیابی کی سیڑھی” اور مائرہ ملک کی کتاب” چوری کا کیک”، اسلامی کتب میں ڈاکٹر انصر جاوید گھمن کی کتاب” سوانح حیات:حکیم محمدصادق سیالکوٹی”، اعجاز خان میو کی کتاب”عرش سے فرش تک ” اور بنت عطا ء البصیر کی کتاب” میرا پیغمبر عظیم تر ہے”، خطو ط کی کیٹیگر ی میں احسان فیصل کنجاہی کی کتاب” خط میرے نام”، مضامین کی کیٹیگری میں ڈاکٹر چوہدری تنویر سرور کی کتاب” قلم اور کتاب” ، علاقائی زبانوں کی کیٹیگری میں اشتیاق احمد نوشاہی کی کتاب”نوشاہیاں نے شاہ” اور طنز و مزاح کی کیٹیگری میں عبدالرحمٰن عبد کی کتاب ” اشکِ خنداں” کو علامہ اقبال ایوارڈ پیش کیا گیا۔
تقریب کے دوسرے حصے میں سال 2023ء کے دوران شعبہ تعلیم اور شعر و ادب کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات سرانجام دینے والی شخصیات کو “علامہ اقبال ایوارڈ برائے علمی و ادبی خدمات” پیش کیا گیا ۔ ان شخصیات میں کیپٹن (ر) عطاء محمد خان سابق ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ موجودہ صوبائی محتسب سیالکوٹ ریجن، ڈاکٹر یاسمین کوثر ہیڈ آف اقبال چیئر یونیورسٹی آف سیالکوٹ، ڈاکٹر عنایت مرتضیٰ شہزاد اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اُردو مائی یونیورسٹی اسلام آباد، ڈاکٹر عظیم اللہ جندران، ڈاکٹر جاوید اقبال جاویداسسٹنٹ پروفیسر و مدیر ذوقِ تحقیق (تحقیقی مجلہ)، ڈاکٹر عمارہ رشید اسسٹنٹ پروفیسر یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور، ڈاکٹر رفعت چوہدری لیکچرار شعبہ اُردو گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ،ڈاکٹر ولید خان اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ،ممتاز ٹیچر ز ٹرینرڈاکٹر مجاہد چوہدری ، فرہاد احمد فگار لیکچرار مظفرآباد، محمد پرویز بونیری لیکچرار، پروفیسر سید عدید، مقبول احمدشاکر، حکیم عبدالرؤف کیانی بانی فکشن ہاؤس گوجرخان، شفیق الرحمنٰ الہ آبادی،میاں ساجد علی چیئر مین علامہ اقبال سٹیمپ سوسائٹی،یاسر محمود صادق سینئر سجیکیٹ اسپیشلسٹ،معروف ماہر تعلیم وحید اشرف، سلسبیل افتخار چیمہ اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر، نامور ماہر تعلیم عاشق حسین صدیقی، معروف ماہر اقبالیات حاجی چوہدری شکیل بھنڈر، راجا غلام اصغر، شہزاد اسلم راجہ، تسلیم اکرام چیئرپرسن بزمِ تسلیم، سینئر صحافی عبدالشکور مرزا، میڈم ثمینہ شاہ ڈائریکٹر دی کالج آف آرٹس اینڈ سائنسز، چوہدری شاہد محمود ڈائریکٹر دی بیسٹ سکول سسٹم، نعیم شہزاد ڈائریکٹر الہادی گرلزکالج،بلال حیدر کاظمی ڈائریکٹر دی کڈز ماڈل ہائی سکول ،صفیہ انور صابری چیئرپرسن اقبال ادبی فورم، محمد تنویر اعوان، خالد پرویز ڈائریکٹر ذکا پبلک سکول، محمد سلمان علی ڈائریکٹر العمران ماڈل ہائی سکول دھمتھل تحصیل ظفروال، محمد بلال امتیاز ڈائریکٹر احسن پبلک ہائی سکول سنکھترہ، اسرار احمد گیلانی ڈائریکٹر گیلانی پبلک سکول نونار،معروف عالم دین، محقق ، سینئر صحافی، کالم نگار قاری لیاقت علی باجوہ، شیخ اسلم شاہد سرپرست بزمِ علم و ادب تحصیل ڈسکہ، ڈاکٹرالیاس عاجز، معروف مونٹیسوری ٹرینرمریم نقوی،سلیم یونس چیمہ چیئرمین اینجلز سکول سسٹم ڈسکہ اور سی ای او سرائے ادب فاکہہ قمر شامل تھیں۔
بزمِ علم و اد ب کے زیرِ اہتمام “اکیسویں صدی میں فکر اقبال کی ضرورت و اہمیت” کے عنوان سے منعقدہ تحریری مقابلے کی فاتح ڈاکٹر سبینہ اویس ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ اُردو گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کو دس ہزار روپے نقد انعام دیا گیا۔ نامور سماجی شخصیت اور صحافی عبدالباسط اکرام، سمیع اللہ مغل ، وارث محمود، پروفیسر نعیم عطاری،تجمل حسین تجمل اور محمد عرفان الحق کو شاہین ایوارڈ پیش کیا گیا۔ اس تقریب میں پروفیسر ندیم اختر سینئر نائب صدر بزمِ علم وادب وسینئر ماہر مضمون، شہزاد احمد مغل اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ذوالفقار علی بھٹی، محمد شاہد حنیف سینئر نائب صدربزمِ علم و ادب، قیصر محمود باجوہ فنانس سیکرٹری بزمِ علم و ادب، نصیر احمد بھلی سرپرست بزمِ علم و ادب تحصیل سیالکوٹ، پروفیسر یاسر جاوید سی ای او لینگویج زون،ایم عابد ایڈوکیٹ، فریحہ باجوہ پی ایچ ڈی اسکالر، محمد آصف سیٹھی ای ڈسکہ ویب چینل، صائمہ اختر سینئر نائب صدر بزمِ علم و ادب، عکاشہ اصغر سینئر نائب صدر بزمِ علم وا دب، رضیہ بی بی، عیشا سرور،میاں امجد علی صدر پنجاب ٹیچرز یونین، امتیاز طاہر مرکزی سیکرٹری نشر و اطلاعات پنجاب ٹیچرز یونین،مبشر علی ماہرتعلیم، عادل بادشاہ پی ایچ ڈی اسکالر، پروفیسر اختر چیمہ، شریف فیاض وزیر آبادی، یوسف سہوترہ سینئر نائب صدر پنجاب ٹیچرز یونین، محمد اجمل فاروقی صدر حلقہ اربا ب ذوق مراکیوال، علامہ طارق محمود انجمن اساتذہ پاکستان، حامد باجوہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ظفر بٹ، مہر محمد انور، صدام حسین پی ایچ ڈی اسکالر، محمد ایوب سینئرہیڈ ماسٹر، سدرہ نسیم اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر، حافظ بلال، عاطف شہزاد دی رائل سکول سسٹم، علی اسداللہ ایڈوکیٹ، نفیسہ نذیر پی ایچ ڈی سکالر، ملک راشد محمود، زاہد حسین اور محمد ایوب شفیقی شامل تھے۔
تقریب کے چوتھے حصے میں پاکستان بھر سے منتخب شدہ جن دس شخصیات کو “علامہ اقبال گولڈ میڈل” پیش کیا گیا ان میں ڈاکٹر مختار احمد ڈائریکٹر ایلیمنٹری ایجوکیشن گوجرانوالہ ڈویژن،پروفیسر ڈاکٹر مشتاق عادل صدر شعبہ اُردو یونیورسٹی آف سیالکوٹ، ڈاکٹر منظر پھلوری، الیاس گھمن پنجابی سیوک، پروفیسر عبدالشکور سیال چیئرمین لرننگ زون سکول سسٹم، علی اصغر ثمر ، انجینیر فیضان الحق مرزا، ردا فاطمہ،صاحبزادہ مسعود چشتی اور چوہدری محمود بسرا شامل تھے۔
آل پاکستان علامہ اقبال ایوارڈ 2023ء کی سب سے بڑی کیٹیگری کا “لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ” جن دس شخصیات کو پیش کیا گیاان میں ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی ممتاز ماہر اقبالیات، ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی چیئرمین اقبال اکادمی لاہور، ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم، بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر وحید الزماں طارق، ڈاکٹر عارف فرہاد صدر شعبہ اُردو مائی یونیورسٹی اسلام آباد، پروفیسرڈاکٹر نوید جمیل ملک ڈین فیکلٹی آف ہومینیٹیز اینڈ سوشل سائنسز، ڈاکٹر محمد قمر اقبال مرکزی صدر بزمِ فکر اقبال پاکستان،خالد فتح محمد ممتاز افسانہ نگار اور ناول نویس، ڈاکٹر اعجاز الحق اعجاز صدارتی اقبال ایوارڈ یافتہ اور مرزا اورنگ زیب شاہ جی(مرحوم ) شامل تھے۔
ڈاکٹر سعید الحسن چشتی وائس چانسلر مائی یونیورسٹی اسلام آباد نے اپنے اختتامی خطبے میں تنظیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس کے بانی و صدر سمیت تمام ممبر و اراکین کو ادب کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنے اور ادبی بزم کو سجا کر سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی آخر میں ملی ترانہ پیش کیا گیا تقریب کے اختتام پر پر لطف ضیافت کا انتظام بھی کیا گیا –

سستی پور کالج 9/نومبر (پریس ریلیز : ڈاکٹر صالحہ صدیقی)
سمستی پور کالج شعبہ اردو وضیائے حق فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام یوم اقبال پر شعبہ اردو میں ایک خوبصورت پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں اساتذہ، طلبہ وطالبات سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی ۔
پروگرام کی صدارت پروفیسر سچدانند تیواری شعبہ زولوجی نے کی، نظامت وکنوینر پروگرام کے فرائض کو ڈاکٹر صالحہ صدیقی، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو سمستی پور کالج نے انجام دیا، مہمان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر محمد جاوید صدر شعبہ پولیٹیکل سائنس، اور ڈاکٹر خورشید عالم شعبہ انگریزی نے شرکت کی،مہمان اعزازی کے طور پر ڈاکٹر استی عالمگیر، ڈاکٹر چاندنی شعبہ انگریزی نے شرکت کی ۔
پروگرام کا آغاز ڈاکٹر صفوان صفی صدرِ شعبہ اردو سمستی پور کالج نے اپنے کلیدی خطبہ سے کرتے ہوئے کہا کہ شاعر مشرق علامہ اقبال کی ولادت 9/ نومبر 1877/ کو سیالکوٹ پنجاب میں ہوئی اور انتقال 21/اپریل 1938/ کو لاہور میں ہوا۔اقبال کا شمار بیسویں صدی کے ممتاز شاعر وقلم کار ،مصنف،مؤلف ،ماہر قانون،فلسفی کے طور پر ہوتا ہے۔اقبال اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شاعری کرتے تھے، ان کی شاعری کو ہم کئ جہت سے دیکھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں قوم وملت کا درد وکرب کے ساتھ ساتھ ان سے نمٹنے کی اچھی تدبیر وترکیب بھی ملتی ہے ۔
مہمان اعزازی ڈاکٹر محمد جاوید نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقبال کی شاعری قرآنی تراجم وتفاسیر، اور تشریح ہیں، یقیناً علامہ ایک شاعر، فلسفی، قانون داں، کے ساتھ ساتھ ایک سچے انسان بھی تھے، ہم سب انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔
ناظم پروگرام ڈاکٹر صالحہ صدیقی نے بھی اقبال کے حوالے سے کئ اہم نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقبال اسم با مسمی شاعر وادیب ہیں، یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم نے ان کی زندگی پر ڈرامہ علامہ اقبال کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی ہے، جس میں علامہ کی زندگی کو ڈرامائی شکل میں پیش کیا گیا ہے، اہل علم وفن نے اس تصنیف کو بیحد پسند بھی کیا ہے، علامہ کی زندگی اور ان کے ادبی خدمات یقیناً ہم سب کے لئے ایک لائحۂ عمل ہے ۔
آخر میں صدر محترم نے بھی اقبال کی زندگی اور ان کی شاعری سے متعلق بہت اہم گفتگو کرتے ہوئے پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا ۔
واضح رہے کہ اس پروگرام میں اقبال کے حوالے سے طلبہ وطالبات نےاقبال کی نظمیں وغیرہ بھی پیش کرکے اقبال کو خراج عقیدت پیش کیا ۔جن طلبہ وطالبات نے نظمیں وغیرہ پیش کیں ان کی فہرست اس طرح ہیں رانی مسرّت، سطوت فاطمہ ، ندا منصور ، حسنات فاطمہ ، سائرہ خاتون، نازیہ پروین ،نکہت پروین،محمد حامد ، افسران الحق۔
یقیناً علامہ محمد اقبالؒ عظیم شاعرومفکر، فلسفی، مصلح قوم وملت، قوم کے رہبر و رہنما کے ساتھ ساتھ ایک سچے انسان تھے، آپ کو شاعر مشرق کہا جاتا ہے ۔ اور یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اہل مشرق کے جذبات و احساسات اور ان کے خیالات کی جس انداز میں آپ نے ترجمانی کی ہے اس کی نظیر نہیں ملتی ۔آپ کی فکر، آپ کا قوت پرواز، آپ کا شاعرانہ تخیلات یہ ماضی حال اور مستقبل تینوں کی ترجمانی کرتی ہے ۔یقیناً شاعری کسی فکرونظریہ کودوسروں تک پہنچانے کاموثرترین طریقہ و ذریعہ ہے ۔شعرونظم سے عموماً عقل کی نسبت جذبات زیادہ متاثرہوتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ وحی الہیٰ کے لیے شعرکواختیارنہیں کیاگیا۔تاہم اگرجذبات کی پرواز درست سمت میں ہوتوانہیں ابھارنا بجائے خودمقصودہے ۔۔ ان کی شاعری عروج رفتہ کی صدا ہے ۔ ان کے افکار و نظریات عظمت مسلم کے لئے ایک بہترین توجیہ اور جواز فراہم کرتے ہیں،اوراسلام کی انقلابی ،روحانی اوراخلاقی قدروں کاپراثر پیغام ہے ۔

حاجی نگر ، ضلع شمالی چوبیس پرگنہ کی سر زمین پر ایک شاندار تعلیمی کانفرنس و تقسیم انعامات کی تقریبات 5/ نومبر 2023 بروز اتوار بعد نماز مغرب زیرِ اہتمام ادارہ اقرا کیریئر اینڈ ایجوکیشنل سوسائٹی انعقاد پذیر ہوئیں۔ مولانا حافظ و قاری تسلیم رضا مصباحی صاحب نے قرآن مجید کی تلاوت سے پروگرام کا آغاز کیا پھر بارگاہِ رسالت مآب میں نعت خواں مرتضیٰ کریمی نے مترنم آواز میں نعت شریف کا نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ پروگرام کی صدارت حاجی عبد الودود انصاری (سابق پرنسپل) نے کی اور نظامت خطیبِ شہر خواجہ احمد حسین نے کی۔ مہمانان خصوصی کی شکل میں تشریف فرما شری شوبھنکر گھوش (چیئرمین حالی شہر میونسپلٹی) اور بطور مہمانان ذی وقار محمد سلیم (سابق کاونسلر، ہوڑہ کارپوریشن)، پروفیسر ہیمنانس بھٹا چاریہ (وبیش چیرمیرمین حالی شہر میونسپلٹی)، چار درجن کتابوں کی مصنفہ اور معروف ادیبہ محترمہ مالا ورما، پروفیسر خالد زبیر (مولانا آزاد کالج، کلکتہ)، ڈاکٹر سراج انور(صدر شعبہ اردو، آر بی سی کالج)، علی شاہد دلکش (کوچ بہار گورنمنٹ انجینئرنگ کالج) اور محمد سرور نے تعلیم ، علم اور تربیت سے متعلق سیر حاصل گفتگو کیں۔ علاقائی ہائر سکنڈری ،مادھیامک ٹاپرز کے ساتھ عالم اور فاضل کے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے اسٹوڈنٹس کو میڈل، اسناد اور انعامات تقسیم کیے گئے۔کامیاب اسٹوڈنٹس کو علم دوست، مخلص شخصیت محترم بلال حسن کے تعاون سے چلنے والے بلال تھرٹی فری کوچنگ کے تحت قابلِ ذکر طالب علموں کو بلال حسن صاحب کی طرف سے اسکالر شپ بھی دیا گیا۔ جناب معراج احمد انصاری نے سکریٹری رپورٹ پیش کیا۔ پرنسپل عبد الودود انصاری سر کے صدارتی خطبے کے بعد رات دق بجے پروگرام مکمل ہوا۔
رپورٹ : ماسٹر لقمان ، مارواڑی کل، حاجی نگر

”مدرسہ ضیاء العلوم زیر اہتمام ضیائے حق فاؤنڈیشن “ البا کالونی پھلواری شریف (پٹنہ) میں یوم آزادئ ہند کی مناسبت سے ایک ڈرائنگ مقابلہ (Drawing Competition) کا انعقاد کیا گیا۔اس پروگرام میں شریک تمام طلبہ وطالبات نے بڑی دلچسپی کے ساتھ ،نقاشی ،پینٹنگ،آرٹ اینڈ کرافٹ وغیرہ میں حصہ لیا۔جس میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات کو سند اور انعامات سے نوازا گیا،جو ان کے روشن مستقبل کے لئے کار آمد ثابت ہوگا (انشاء اللہ)۔
جن طلبہ وطالبات نے نمایاں طور پر کامیابی حاصل کی ہیں ان کی فہرست کچھ اس طرح ہیں۔ عالیہ پروین بنت شمس عالم ، حمزہ اخلاق بن اخلاق انصاری، فقیھہ روشن بنت ڈاکٹر فیروز عالم ،نایاب حسین بنت ساجد علی ،حریم قادری بنت محاسن قادری، صادقین اختر بنت عابد علی اختر کا نام ہے ۔ان کے علاوہ چند طلباء وطالبات نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جن کی فہرست یوں ہے، میراب راشد بن راشد منہاج، عبدالنافع ، حذیفہ بن عرشی ،عافیہ انور بنت انور خان، ارحم علی بن روشن ،عمار انجم بن صفدر انجم، ارقم حیات بن فضل ربی ،عفان ضیاء بن محمد ضیاء العظیم ۔
اس موقع پر طلبہ وطالبات سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد ضیاء العظیم قاسمی نے پندرہ اگست یوم آزادی کی تاریخی پس منظر یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ! یوم آزادی ہندوستان میں ہر سال 15 اگست کو قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔ سن 1947 15/اگست میں ہندوستان نے ایک طویل جدوجہد کے بعد انگریزوں کے تسلط سے ملک ہندوستان کو آزادی ملی ۔ برطانیہ نے قانون آزادی ہند 1947ء کا بل منظور کر کے قانون سازی کا اختیار مجلس دستور ساز کو سونپ دیا تھا۔ اس کے بعد علم وفن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ! علم وفن کی اہمیت وفضیلت، عظمت وترغیب اور تاکید، جس بلیغ و دل آویز انداز میں پائی جاتی ہے اس کی نظیر اور کسی دوسری چیزوں میں نہیں ملتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے سیدنا ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر فوقیت دیتے ہوئے انہیں آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا، تعلیم و تربیت، درس و تدریس تو گویا زندگی کے سب سے بڑے مقاصد میں سے ایک مقصد اور جزولاینفک ہے۔ علم وفن وجہِ فضیلت ِآدم ہے علم ہی انسان کے فکری ارتقاء کاذریعہ ہے۔علم ہی انسانوں کو راہ نجات، راہ ہدایت، راہ راست، اور صراط مستقیم کی جانب گامزن کرتی ہے ۔اور انہیں مقاصد کے تحت بچوں میں خود اعتمادی ان کی حوصلہ افزائی اور ان کے اندر موجود صلاحیتوں کو ابھارنے، انہیں روشن مستقبل کے لیے تیار کرنے کی غرض سے انٹر نیشنل ٹرسٹ ”ضیائے حق فاؤنڈیشن“نےصوبہ بہار کے دارالحکومت میں ایک مدرسہ کا افتتاح کیا ہے ۔حالانکہ یہ مدرسہ پہلے سے بچوں کو درس و تدریس کے فریضے انجام دے رہا تھا جو کہ اب ”مدرسہ ضیاء العلوم “ کے نام سے اپنی خدمات انجام دے رہا ہے ۔تاکہ غریب امیر سبھی بچوں کو یکساں پلیٹ فارم مل سکے،جہاں صرف علم و ہنر کو فوقیت دی جائے گی،اسی جذبے کے تحت 14/اگست 2023 بروز سوموار کوبمقام ”مدرسہ ضیاء العلوم “ البا کالونی پھلواری شریف (پٹنہ) میں ایک ڈرائنگ مقابلہ (Drawing Competition) کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ وطالبات نے پورے جوش وخروش کے ساتھ ہندوستانی علم (جھنڈا) نقشہ، مجاہدین آزادی کی تصاویر بناکر اپنی ہنر مندی کا ثبوت دیتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کی۔
واضح رہے کہ ضیائے حق فاؤنڈیشن اردو ہندی زبان وادب کے فروغ،غریب بچوں میں تعلیمی فروغ،انسانی فلاح و بہبود،مظلوم محکوم و معاشی طور پر کمزور خواتین کی مدد،صحت،قدرتی آفات میں ہنگامی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے علاوہ مستقل نوعیت کے فلاحی منصوبہ جات پر بھی کام کرتا ہے۔جن میں بے روزگار خواتین کو روزگار دینا،ان کے علم و ہنر کو نئی پہچان دینا،سلائی،بنائی کڑھائی جیسے ہنر کو سامنے لانا،فیس جمع نہ کر پانے والے غریب بچوں کو فری میں اردو،ہندی زبان و ادب اورقرآن مجید جیسی بنیادی تعلیم فراہم کرانا۔یتیم اور بے سہارا بچوں کی تعلیم اور کفالت کا منصوبہ،سڑکوں کے کنارے بے بس و لاچار لوگوں کی مددان سب کی صحت کے لیے فری چیک اپ وغیرہ کا اہتمام، اردو ہندی زبان و ادب کے فروغ کے لیے بھی خصوصی کام کرنا،مختلف ادبی،علمی،لٹریری پروگرام کا انعقاد کرانا، پرانے شعرأ و ادباء کے ساتھ ساتھ نئے قلم کاروں کو بھی فروغ دینا،انہیں پلیٹ فارم مہیا کرانا ،فری لائبریری کا انتظام جیسے اہم کام شامل ہیں۔
بہت ہی کم وقت میں منعقد اس پروگرام میں کثیر تعداد میں طلبہ وطالبات شامل رہیں، جبکہ مقابلہ میں تیس طلبہ وطالبات کی فہرست تھی۔لیکن مقابلہ میں بچوں کی بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی خواہش اور ان میں خوشی کو دیکھ کر ضیائے حق فاؤنڈیشن کے ممبران اور کمیٹی نے فیصلہ لیا ہے کہ اس طرح کے پروگرام انشا ء اللہ وقتا فوقتا اب کیا جائے گا تاکہ بچوں کو بھی پلیٹ فارم مل سکے ان کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔
اس پروگرام میں تلاوت قرآن پاک شاداب خان ،شخصی تعارف و نظامت محمد ضاء العظیم (ضیائے حق فاوٗنڈیشن برانچ اونر وڈائریکٹر مدرسہ ضیاءالعلوم )نے کرائی ،پروگرام کا مکمل خاکہ ہندوستان کی مشہور ومعروف اور بے باک قلمکار وماہر اقبالیات ڈاکٹر صالحہ صدیقی، چئیر پرسن ضیائے حق فاؤنڈیشن واسسٹنٹ پروفیسرشعبہ اردو سمستی پور کالج نے بنایا ۔پروگرام میں جن لوگوں نے اپنا تعاون پیش کیا ہے ان کی فہرست مولانا محمد عظیم الدین رحمانی، قاری ابو الحسن، مصباح العظیم روشن آرا، رونق آرا، زیب النساء، فاطمہ خان، عفان ضیاء،حسان عظیم، شارق خان،مولانا کاشف وغیرہ کے نام شامل ہے ۔

پریاگ راج (پریس ریلیز :ڈاکٹر صالحہ صدیقی) پروفیسر صالحہ رشید صدر شعبئہ عربی و فارسی سے 5 مئی 2023 کو الہ آباد یونیورسٹی سے سبکدوش ہوئیں، اس موقع پر ان کے رہائش گاہ پر ایک خوبصورت الوداعیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں اُن کے تعلیمی اسفار میں جڑے لوگ شامل رہے، اور صالحہ رشید سے جڑی خوبصورت یادوں کا تذکرہ کیا ۔
اس موقع پر ڈاکٹر صالحہ صدیقی (شعبۂ اردو ) ،آسماں خان(شعبۂ فارسی فارسی) ڈاکٹر آفرین(شعبۂ فلاسفی) ڈاکٹر تبسم، ڈاکٹر زینت( شعبۂ فارسی ) رضیہ،و دیگر طلباء و طالبات کے ساتھ ساتھ پروفیسر صالحہ رشید کی فیملی ممبرز بھی موجود تھے۔
پروفیسر صالحہ رشید کی زندگی کا طویل عرصہ الٰہ آباد یونیورسٹی میں تعلیمی و تدریسی فریضے انجام دینے میں گزرا ۔ یقینا ان کے لئے یہ سفر آسان نہیں رہا ہوگا، بےشمار دشواریاں درپیش آئی ہوں گی، یادوں سے بھرا ہوا سفر اپنی منزل تک پہنچا ۔ڈاکٹر صالحہ صدیقی نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صالحہ رشید صاحبہ صرف فارسی یا عربی کی نہیں بلکہ ہر اُس طلباء و طالبات کی استاذ، گارجین اور سرپرست ہیں جو زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کی جستجو رکھتے ہیں ۔انہوں نے ہمیشہ الٰہ آباد یونیورسٹی کے ہر شعبے کے طلباء و طالبات کی راہنمائی کی اُن کی حوصلہ افزائی کی ۔
میں بھی اُن خوش قسمت طالبہ میں شامل ہوں جن کو میم کی سر پرستی حاصل رہی۔میم صرف ملازمت سے سبکدوش ہوئی ہیں لیکن اُن کے کام کی رفتار میں کوئی کمی نہیں آئی ۔
آسماں خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ جیسی مخلص ومربی استاد جدوجہد کرنے والے طلباء کے لیے ایک لازوال نعمت ہے۔ میم آپ نے ہمیشہ مجھے ایک اولاد کی سی محبت دی ہمیشہ ہماری رہنمائی کی ہے ۔ رضیہ نے اپنے تاثرات سے نوازتے ہوئے کہا کہ میم آپ کے اسباق نے نہ صرف ہمیں کلاس پاس کرنے میں مدد کی بلکہ ہمیں اپنی ذاتی زندگیوں میں مہربان اور انسان دوست بننا سکھایا۔
اخیر میں ڈاکٹر صالحہ رشید نے تمام مہمانان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نم آنکھوں سے کہا کہ یقیناً میری زندگی کا یہ خوبصورت اور یادگار ایام میں سے ایک دن ہے، میں آپ سب کا بے پناہ شکریہ ادا کرتی ہیں کہ آپ سبھوں نے اتنی محبت سے نوازا، یقیناً ایک استاذ کو اپنے سینے میں دھڑکتا دل، عدل انصاف کا پیکر، احساسات وجذبات میں نرمیت اور زبان کو قابو میں رکھنا چاہیے، طلبہ وطالبات ہمارے لئے ہماری سگی اولاد کی مانند ہیں، والدین اپنی اولاد کی جسمانی نشوونما اور غذا دیتے ہیں، جبکہ ایک استاذ اپنے شاگردوں کو روحانی غذا عطاء کرتے ہیں، استاذ کبھی سبکدوش نہیں ہوتے ہیں، وہ جہاں بھی ہوتے ہیں اپنی خوشبو سے سماج ومعاشرہ کو معطر کرتے رہتے ہیں، میں آپ سب کو یہی نصیحت کرتی ہوں کہ زندگی میں جہد مسلسل ہونی چاہیے، اخلاص وللہیت کے ساتھ اپنے فریضے کو آپ انجام دیں ۔
واضح رہے کہ پروفیسر صالحہ رشید نے اب تک سینکڑوں اہم تنقیدی و تحقیقی مضامین اُردو ، فارسی اور انگریزی زبانوں میں لکھ چکی ہیں اور ترجمے بھی کرچکی ہیں، وہ کئی اہم اور نایاب کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں جن میں اُن کی مقبول ترین کتابوں میں محاضرات، اسلم جمشید پوری اُردو افسانے کی ایک منفرد آواز، عزلت ، نسوہ ، تفہیم، بوستان خیال،جد و جہد آزادی وغیرہ خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں ۔
ڈاکٹر صالحہ رشید کی شخصیت نرم، شیریں، مخلص استاد ، دوست اور ایک بہترین استاد کی رہی ہے ۔اُنہوں نے کبھی بھی پروفیسر ہونے کا رتبہ یا رعب بچّوں پر نہیں ڈالا۔ وہ ہمیشہ کلرک سے لے کر اسٹوڈنٹ تک ایک عام مخلص انسان کی طرح ملتی جلتی اور بات کرتی ، اُن سے جڑا ہر آدمی اُن کو اپنا مانتا ہے۔ اُنہوں نے اپنے گرد و پیش صرف محبت بانٹی۔یہی وجہ ہے کہ اُن کے ریٹائرمنٹ پر ہر آنکھ نم ہو گئی۔

ٹوکیو: مولانا آزاد کالج اورنگ آباد کے صدر،شعبہ نباتات،ڈاکٹر رفیع الدین ناصر کو
Traditional Medicines and Ethno medicin
کی پانچویں بین الاقوامی کانفرنس میں اپنی تحقیقات پیش کرنے اور ایک ٹیکنیکل سیشن کی صدارت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔
اس نشست میں ڈ اکٹر رفیع الدین ناصر نے گوتالہ سنکچیوری ( Sanctuary ) کےجنگلات اور وہاں کے قبائل کے تعلق سے کی گئی تحقیقات کو تصاویر اور پی پی ٹی کی مدد سے اپنے نتائج اور فوائد کو دنیا بھر سے آۓ ئے سائنسدانوں کے روبرو پیش کیا ۔ جس پر گفت و شنید کے بعد کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں اجلاس کے صدر ڈاکٹر ریہل اندرے نے بہترین تحقیقی مقالہ کی پیشکشی
( Best Paper presentation) کا اعزاز ڈاکٹر رفیع الدین ناصر کو پیش کرنے کا اعلان کیا جس کو حاضرین نے سراہا۔ یہ اعزاز ڈاکٹر رفیع الدین ناصر کو نیدر لینڈ کے سائنس داں ڈاکٹر ممیا گریش کے ہاتھوں دیا گیا۔ اس کانفرنس میں 50 ممالک کے تقریباً 200 سے زائد سائنسدانوں نے شرکت کی۔ ڈاکٹر رفیع الدین ناصر کو اس اعلٰی اعزاز سے نوازے جانے پر ساتھی اساتذہ، دوست و احباب اور عزیز و اقارب نے مسرت کا اظہار کیا اور مبارکباد پیش کی۔
فوٹو- ڈاکٹر رفیع الدین ناصر کو ’’ بہترین مقالہ ایوارڈ ‘‘ پیش کرتے ہوے بائیں سے ڈاکٹر ریہل اندرے، صاحب اعزاز ڈاکٹر رفیع الدین ناصر اور ڈاکٹر ممیا گریش دیکھے جا سکتے ہیں۔

ٹوکیو: مولانا آزاد کالج اورنگ آباد کے صدر،شعبہ نباتات،ڈاکٹر رفیع الدین ناصر کو

Traditional Medicines and Ethno medicin

کی پانچویں بین الاقوامی کانفرنس میں اپنی تحقیقات پیش کرنے اور ایک ٹیکنیکل سیشن کی صدارت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔
اس نشست میں ڈ اکٹر رفیع الدین ناصر نے گوتالہ سنکچیوری ( Sanctuary ) کےجنگلات اور وہاں کے قبائل کے تعلق سے کی گئی تحقیقات کو تصاویر اور پی پی ٹی کی مدد سے اپنے نتائج اور فوائد کو دنیا بھر سے آۓ ئے سائنسدانوں کے روبرو پیش کیا ۔ جس پر گفت و شنید کے بعد کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں اجلاس کے صدر ڈاکٹر ریہل اندرے نے بہترین تحقیقی مقالہ کی پیشکشی
( Best Paper presentation) کا اعزاز ڈاکٹر رفیع الدین ناصر کو پیش کرنے کا اعلان کیا جس کو حاضرین نے سراہا۔ یہ اعزاز ڈاکٹر رفیع الدین ناصر کو نیدر لینڈ کے سائنس داں ڈاکٹر ممیا گریش کے ہاتھوں دیا گیا۔ اس کانفرنس میں 50 ممالک کے تقریباً 200 سے زائد سائنسدانوں نے شرکت کی۔ ڈاکٹر رفیع الدین ناصر کو اس اعلٰی اعزاز سے نوازے جانے پر ساتھی اساتذہ، دوست و احباب اور عزیز و اقارب نے مسرت کا اظہار کیا اور مبارکباد پیش کی۔
فوٹو- ڈاکٹر رفیع الدین ناصر کو ’’ بہترین مقالہ ایوارڈ ‘‘ پیش کرتے ہوے بائیں سے ڈاکٹر ریہل اندرے، صاحب اعزاز ڈاکٹر رفیع الدین ناصر اور ڈاکٹر ممیا گریش دیکھے جا سکتے ہیں۔

وبائی بیماری کرو نا کے ڈھائی برس گزر جانے کے بعد گز شتہ دنوں ایوان غالب میں منعقد بین الاقوامی غالب سمینار میں شرکت کا موقع ملا۔جہاں معا صر اردو ادب میں نئی مطبوعات کا رسم اجرا دہلی کے سابق گورنر نجیب جنگ کے دست مبارک نے کیا ہندی ادیب وشو ناتھ تر پا ٹھی نے صدارت، تعارفی کلمات پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی جبکہ کلیدی خطبہ کے فرائض پروفیسر عتیق اللہ نے انجام دیئے۔ مشہور غزل گلوکار ہ رادھیکا چو پڑہ نے شام غزل کو پر کیف بنا دیا۔ علاوہ ازیں عالمی مشاعرہ، اردو اسٹیج ڈ رامہ مشاعرہ رفتگاں اور چھبیس مقالہ نگار وں نے نقل کئے ہوئے مقالے سا معین کی نذر کیے ۔جبکہ ڈاکٹر نریش کی صدارت میں اٹھا ئس شعراء نے مشاعرہ کو جلا بخشی۔معین شاداب کی نظامت میں سا معین کا ہجوم ندارد رہا۔اسٹیج پر جلوہ افروز شعراء ہی ایک دوسرے کے کلام کو داد تحسین دیتے نظر آئے۔ایک شاعر تو آداب مشاعرہ کو با لا ے طاق رکھ کر محض منہ دکھائی کے بعد رخصت ہو گئے ۔بعد از مرگ غالب پر قصیدہ گوئی کر نا معین ا مر و ہوی کی شاعرانہ صلاحیتوں پر ضرب کاری ہے۔پا پولر میر ٹھی کے لئے فر مائش کی جا تی رہی لیکن ان کا کلام نہیں سنا یا گیا۔ بہت سے سا معین سے ہال خا لی ہو نے لگا ۔بہر کیف مشا عرے نے کو ئی گہری چھاپ نہیں چھوڑی ۔
اس کے علاوہ ایوان غالب کے ہم سب ڈرامہ گروپ نے ڈاکٹر محمد سعید کی تحریر و ہدایت میں اردو ڈرامہ مشاعرہ رفتگاں پیش کیا گیا جس میں بھد ے انداز میں مذہب اسلام پر چھینٹا کشی کی گئی۔ڈرامہ کو مشاعرہ کی شکل دے کر وفا ت پا چکے پندرہ شعرا کو پیش کیا گیا سبھی اداکاروں نے بہترین اداکاری کے جوہر دکھائے۔پس پردہ تاریک ہال میں بے حد ہولناک انداز میں بآواز بلند اعلان کیا گیا آ ئیے آپ کو عالم برزخ میں لئے چلتے ہیں لیکن صرف آج کے لئے!سمجھا جاتا ہے کہ جو لوگ فوت ہو جا تے ہیں وہ فرش و عرش کے درمیان موجود رہتے ہیں پردہ ہٹتا ہے اور پر سوز منظر رونما ہو تا ہے۔اسٹیج پر سفید چادر پر گلاب کی پتیا ں بکھری ہیں۔چاروں طرف سکوت و تا ریکی ہے۔محسوس ہوا واقعی قبرستان سامنے ہے۔امیر خسرو کو دیکھ کر لگا واقعی مردہ قبر کی نشست گاہ سے شعر گوئی کر رہا ہے۔اچانک دونوں اطراف سے مختلف ملبوسات میں چودہ شعرا نمودار ہو تے ہیں جن میں دو خاتون ٗشاعرات بھی شامل ہیں۔غالب، داغ، اقبال، انیس ، ا کبر آلہ آبادی، میر ، ولی دکنی، جوش، قلی قطب شاہ، فیض، پر وین شاکر وغیرہ با کمال روحیں موجود ہیں۔صد افسوس!! قبرستانی مشاعرہ کے دوران اس ڈرامہ میں مذہب اسلام کو مضحکہ خیز انداز میں پیش کیا گیا۔اقبال نے جب شکوہ جواب شکوہ پیش کیا تو غالب نے کا فرا نہ ا نداز میں سوال کیا علامہ کیا اللہ میاں کے یہا ں سے کوئی جواب آ یا کیا ؟ اقبال نے کہا جی ہاں جواب شکوہ بھی رقم کیا ہے۔غالب نے پھر مشرکانہ انداز میں کہا میں تو سوچ رہا ہوں کہیں ایک اور کتاب نازل نہ ہو جا ئے۔ پر وین شاکر نے اقبال سے مزید کلام پیش کرنے کی فر مائش کی تو غالب نے مسخرے پن سے کہا علامہ آپ سے تراویح پڑھانے کی بات کی جا رہی ہے ۔امیر خسرو نے اقبال کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے کہا لگتا ہے آپ کو چار جنم لینے ہوں گے۔میر انیس کی مرثیہ خوانی پر چشم پر نم کی جگہ سا معین نے زور دار تا لیاں بجائیں تو نا چیز کا کلیجہ منہ کو آ گیا ۔ افسوسناک واقعہ رہا جب خدا ئے سخن میر تقی میر کا ذکر ہوا تو امیر خسرو نے خو د کو آ دم علیہ سلام کا درجہ دیتے ہوئے کہا میر خدا ئے سخن کیسے ہوا ؟ میں ا دم علیہ اسلام ہوں گو یا نبی پہلے آ گیا اور خدا بعد میں آیا ؟
ڈرامہ ختم ہو نے پر کرداروں کو متعارف کرایا گیا جس میں تیرہ کرداروں کا تعلق غیر اردو داں طبقہ سے تھا سا معین میں کسی نے کہا عالم برزخ کے حق دار تو مشرک ہی ہیں۔مختصر یہ کہ ڈرامہ دیکھ کر ما یو سی ہاتھ لگی ڈرامہ نگار نے کیا پیغام دیا سمجھ نہیں آیا؟ اردو زبان و ادب کی ترقی میں اس طرح کے ڈرامہ کی کیا اہمیت ہے؟ بعد از مرگ شعراء کی غزلیں بطور ڈرامہ پیش کر نا کوئی قا بل ستا ئش کام نہیں۔کہانی، پلاٹ، مکالمہ نگاری، منظر کشی ، انداز بیان ہر لحاظ سے اردو زبان کی دھجیاں اڑانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
آئیے اب ایک طا ئرا نہ نظر مقالہ نگار وں کی کارکردگی پر مرکوز کی جائے سہ۔ روزہ سمینار میں آٹھ مقا لہ نگار بیرون ممالک سے اور چھبیس مقالہ نگار اندرون ملک سے مدعو کیے گئے لیکن بیرون ممالک سے کسی بھی مقا لہ نگار نے شرکت نہیں کی جبکہ بین الاقوامی غالب سمینار کا سہرا لندن میں قیام پذیر کشمیر ی شہری جا وید کا کرو کے سر با ندھنا پڑا۔لیکن جا ویدکاکرو نے انگریزی میں مقالہ پڑھ کر محبان اردو کے کانوں میں زہر گھول دیا۔جبکہ موصوف کا دعوی ہے کہ گزشتہ پچیس برس سے لندن میں درس و تدریس کا کام کر رہے ہیں۔گو گل سے نقل شدہ تاریخ اردو ادب پر مقالہ سے اردو کو سر عام دفنا دیا۔ سوال یہ ہے کہ لندن میں پچیس برس سے اردو میں کام کرنے والا شخص اردو زبان میں بات کرنے لا ئق کیوں نہیں ہے؟زبان اردو کو ادبی محفلوں میں قتل کیوں کیا جا رہا ہے؟ غیر اردو داں طبقے کو سمینار میں شرکت کی دعوت کیوں دی گئ؟
دوسرے روز پروفیسر محمد زماں کی صدارت میں پہلا اجلاس کا آغاز ہوا جس میں ڈاکٹر نریش، پروفیسر خالد جاوید ، پروفیسر فاروق بخشی اور ڈاکٹر عمیر نے طویل مقالہ حرف بہ حرف پڈ ھنے سے گریز کیا۔دوسرے اجلاس میں ڈاکٹر خالد علوی کی صدارت میں پروفیسر قدوس جاوید، پروفیسر شہناز نبی، ڈاکٹر معید رشیدی نے بھی وقت کی کمی کے باعث نا مکمل مقالہ پیش کیے ۔تیسرے اجلاس میں پروفیسر معین الدین جینا بڑے کی صدارت میں پروفیسر انیس اشفاق نے محض پانچ منٹ میں یہ کہہ کر پلہ جھاڑ لیا کہ مقالہ شائع ہو جائے گا۔اسی طرح پروفیسر قاضی جمال حسین ، پروفیسر احمد محفوظ اور پروفیسر سراج اجملی نے بھی صفحات کو ہذف کر دیا۔
چوتھے اجلاس میں پروفیسر ارتضیٰ کریم نے مقالہ نگار وں کی نقل شدہ تحریر وں پر تبصرہ نہ کرتے ہوئے سابق ڈائریکٹر مر حوم رضا حیدر کی وفات پر اظہار تعزیت کیا انھوں نے نئے انداز میں صدارت کے فرائض انجام دیتے ہوئے مرزا غالب کے خطوط وشا عر ی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کر و نا کے درد ناک ایام کو خوش اسلوبی سے پیش کیا۔اس اجلاس میں اشعر نجمی، پروفیسر طارق چھتا ری اور خورشید اکرم نے نا مکمل مقالے پیش کئے ۔خورشید اکرم نے ہم جنس پرستی پر مبنی نہایت بد نما نا و ل پر مقالہ پڑھتے ہوئے شرم و حیا کی تمام حدود کو ما ت دے دی۔اپنی غلیظ زبان میں فحش گا لیو ں کو بھی خوا تین کی موجودگی میں بلند آواز میں شامل کیا۔خورشید اکرم نے جس بد تہذیبی کا مظاہرہ کیا سا معین نے دانتوں تلے انگلیاں دبا لیں ۔معاشرتی و اخلاقی اقدار کو بالا ئے طاق رکھ کر ہم جنس پرستی پر بات کرنا کم از کم معاصر اردو ادب میں کو ئی با کمال امر نہیں ۔
تیسرے روز پا نچواں اجلاس ڈاکٹر ا طہر فا روقی کی صدارت کے دوران پروفیسر احمد فاطمی ، ظہیر ربانی اور جاوید کا کرو ( لندن ) نے مقالے پڑھے۔ جبکہ احمد فاطمی علالت کے باعث شریک نہ ہو سکے۔اور ان کا مقالہ نفیس عبدالحکیم نے اول و آخر صفحات کی چند سطور میں ختم کر دیا۔جاوید کا کرو نے انگریزی میں زبان اردو کو قتل کر تے ہوئے کہا کہ اردو ترجمہ غالب انسٹی ٹیوٹ کر لے گا ۔ مقالہ مکمل لندن کی انگریزی زبان میں پڑھا۔چھٹا اجلاس پروفیسر شہزاد انجم کی صدارت میں پروفیسر ابن کنول نے مقالہ پڑھنے سے پرہیز کیا۔اور معاصر اردو ادب پر زبانی جمع خرچ کرتے ہوئے چند لمحوں میں اپنی بات ختم کر دی۔پروفیسر شافع اور خالد اشرف نے بھی وقت کی قلت کے باعث مقا لہ مکمل نہیں پڑھا۔پروفیسر شہزاد انجم نے کہا کہ سو شل میڈیا کے دور میں نسل نو کو تکنیکی اعتبار سے کام کرنا ہو گا۔انھوں نے کہا کہ اکیسویں صدی ناول کا عہد ہے اور ہندوستانی تہذیب و تمدن کو بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ساتواں اجلاس پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین کی صدارت میں عمل پذیر ہو ا جس میں صغیر ا فرا ہیم ، پروفیسر غضنفر، ڈاکٹر الطاف انجم نے بھی بدستور نا مکمل مقالے پیش کیے ۔
پروفیسر عبید الرحمن ہا شمی کی لرزاں آواز میں آٹھویں اجلاس کا آغاز ہوا جس میں ڈاکٹر ثروت خا ن، پروفیسر عرفان عارف اور ڈاکٹر نفیس نے بھی وقت کی کمی کے باعث مکمل مقالہ پڑھنے سے گریز کیا۔
تجزیاتی نظر سے مشاہدہ کیا جائے تو سمینار کے دوسرے روز سا ڑھے پا نچ گھنٹے میں چودہ مقالہ نگار چار صدور یعنی اٹھارہ اشخاص کو چار گھنٹے کا قلیل وقت دیا گیا۔یاد رہے کہ سا ڈھے پا نچ گھنٹے میں سے ڈیڑھ گھنٹہ چا ے وقفہ اور ظہرانہ کے لذیذ لوازمات کی نذر ہو گیا۔قابل غور بات یہ ہے کہ چار گھنٹے میں اٹھا رہ لوگ کس طرح اظہار خیال کر سکتے ہیں؟ کسی بھی مقالہ نگار نے پا بندی وقت کا خیال کیوں نہیں رکھا؟ تیسرے روز تقریباً سات گھنٹے کا وقت دیا گیا جس میں سے ڈیڑھ گھنٹہ چا ے کا وقفہ اور کھانے کا نکال دیا جائے تو ساڑھے پانچ گھنٹے میں با رہ مقالہ نگار اور چار صدور کے علاوہ اس دوران اختتامی ا جلا س میں بیمار و ناتواں پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کی صدارت میں ہر بنس مکھیا اور پروفیسر عتیق اللہ نے خصوصی تقا ریر کیں۔
تیسرے روز ا ختتامی اجلاس کے دوران افرا تفری مچ گئی جب خاتون پروفیسر شہناز نبی نے ڈاکٹر خالد علوی پر جنسی تشدد کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا خالد علوی کو خوا تین سے بات کر نے کی تمیز نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ اردو ہندی نظم نگاری پر مقالہ تحریر کرتے وقت شب و روز محنت کی ہے۔لیکن خالد علوی نے انھیں سر محفل بے آ بر و کر دیا ۔ سا معین میں سے کسی نے چٹکی لی میڈم دہلی مہیلا آ یو گ کی راہ پکڑ و!! جبکہ پروفیسر انیس اشفاق اور ڈاکٹر ادریس علی نے محترمہ سے معا فی ما نگنے میں ہی عافیت سمجھی۔علاوہ ازیں انیس اشفاق نے وفات پا چکے اردو نقادوں کی یاد میں ایک مرثیہ نما پر سوز نظم سنا کر ما حول آ بدیدہ کر دیا۔راقم الحروف کے سوال کا جواب دیتے ہوئے پروفیسر عتیق اللہ نے زہر افشانی سے کام لیتے ہوئے کہا اردو میں تلفظ کی غلطی کو ئی معنی نہیں رکھتی ۔مو صو ف نے کر خت انداز میں کہا کہ اگر کسی سفید چادر پر خون کا داغ لگا ہو تو دا غ پر نظر نہیں رکھنی چاہئے بلکہ باقی صاف چا در کو دیکھنا چا ہیے ۔ عتیق اللہ کی نا زیبا بیان بازی سے محسوس ہوا کہ اردو زبان و ادب کا جنازہ نکا لنے میں اردو کے پروفیسر کا نما یا ں کردار ہے ۔ایک طرف جہاں پروفیسر گو پی چند نا رنگ اردو رسم الخط کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف عتیق اللہ نے اردو تلفظ کو نظر انداز کر تے ہوئے قا تل کا کام کیا۔ ڈاکٹر ادریس علی نے پر خلوص انداز میں میزبانی کے فرائض انجام دیتے ہوئے کہا کہ یو کرین میں جنگ کے باعث بیرون ممالک سے مقالہ نگار شرکت نہیں کر سکے۔
اس طرح سہ روزہ سمینار بین الاقوامی غالب سمینار کا خالی جا مہ پہن کر اختتام پذیر ہوا۔
لمحہ فکریہ! تین روزہ سمینار میں کسی بھی بے روزگار گو لڈ میڈلسٹ یا پی ایچ ڈی ہولڈر کو جگہ کیوں نہیں دی گئی؟ سا معین کو سوا لات کر نے کی ا جازت کیوں نہیں دی جا تی ؟ مقالہ نگار پا بندی وقت کا خیال کیوں نہیں رکھتے؟ مقالہ نگار وں کے تلفظ کی اصلاح کون کر ے گا ؟ 1968 , 1989 کو اردو میں کیوں نہیں بو لا جا سکتا؟ قا بل مقالہ نگار بغیر نقل کئے مقالہ کیوں نہیں پیش کر سکتے؟ اردو زبان کے نام پر اپنی روٹیاں سینکنے وا لے اسا تذ ہ کو اردو کی زبوں حا لی کی فکر کیوں نہیں ہے؟ اردو میڈیم اسکول بند کیوں ہو رہے ہیں؟ اردو کی نصابی کتب با زار سے نا پید کیوں ہیں؟ مستقبل میں کیا اردو زبان صرف مشاعرہ اور سمینار کے سہارے ہی زندہ رہے گی؟ اردو پروفیسر اپنی ہا نڈی پکا نے میں مشغول کیوں ہیں؟ یاد رہے دور حاضر میں نہ صرف زبان اردو زوال پذیر ہے بلکہ اردو داں طبقہ بھی سماجی و معا شرتی مسا ئل سے دوچار ہے کیونکہ جب کسی قوم کو تباہ کیا جا تا ہے تو سب سے پہلے اس کی زبان پر حملہ کیا جا تا ہے۔

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Ut elit tellus, luctus nec ullamcorper mattis, pulvinar dapibus leo.